خیرپور، الرااور جتوئی قبائل میں خونی تصادم ،4افراد قتل
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیرپور (جسارت نیوز ) خیرپور میں موت کا رقص قبیلی جھگڑے میں چار افراد قتلِ ، ایس ایس پی خیرپور کا نوٹس عارضی پولیس پکٹ قائم لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا حوالے دونوں گروپ مورچہ بند ہوگئے علاقے میں خوف کے سائے۔ تفصیلات کے مطابق خیرپور کے قریب پریالو تھانہ کی حدود میں قبائلی تصادم شدت اختیار کر گیا فائرنگ میں 4 افراد موت کے آغوش میں چلے گئے جبکہ اْلرا اور جتوئی گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ سے صورتحال کشیدگی کے باعث علاقے میں خوف وحراس کی فضا قائم ہے جبکہ افراد جاں بحق لاشوں کی شناخت نوجوان ماجد الرو ، گلن الرو، دھنی بخش الرو ، اعظم جتوئی کے ناموں سے ہوئی ہے علاقے میں کشیدگی کے باعث لاشیں جائے وقوعہ پر ہی پڑی ہیں دونوں گروپ مورچہ بند ہیں واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس، پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ کی طرف روانہ کردی گئی دونوں گروپوں میں تاحال شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایس ایس پی خیرپور حسن سردار نیازی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مزید خونریزی کو روکنے کے لئے علاقے میں عارضی پکٹ قائم کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو سختی سے نمٹا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقے میں
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔