آثار و افکار اکادمی پاکستان کے تحت ادیبوں اور دانشوروں کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکادمی کے منتظم اعلیٰ علامہ حسن ظفر نقوی نے اکادمی کے اعراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی زبان کو نقصان پہنچ رہا ہے ضروری ہے کہ اس کی ترویج و ترقی کیلئے کام کیا جائے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ آثارو افکار اکادمی کے تحت بہترین کتب و انعامات اور اعزازات تقسیم کرنے کی اٹھائیسویں پر وقار تقریب ڈاکٹر ہلال نقوی کی زیر صدارت مسجد آل عباء گلبرگ میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکادمی کے منتظم اعلیٰ علامہ حسن ظفر نقوی نے اکادمی کے اعراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی زبان کو نقصان پہنچ رہا ہے ضروری ہے کہ اس کی ترویج و ترقی کیلئے کام کیا جائے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ڈاکٹر ہلال نقوی نے اکادمی کے بانی مرحوم ساحر لکھنوی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساحر لکھنوی نے اکادمی قائم کر کے بہترین خدمات انجام دیں۔ اسلام آباد سے آئے ہوئے مہمان معروف دانشور علی اکبر ناطق کی کتاب کوفہ کا مسافر کو سال کی بہترین کتاب قرار دیا گیا۔ تقریب سے اکادمی کے جنرل سیکریٹری دانش مہدی کے علاوہ ڈاکٹر رضا داؤدانی، فراست حسین رضوی، علامہ باقر حسین زیدی نے خطاب کیا جبکہ شعراء، مصنفین اور مؤلفین کے علاوہ ادبی دوستوں نے بھرپور شرکت کی جبکہ شجاع عباس ایڈوکیٹ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ پروگرام میں علامہ آل احمد بلگرامی، لخت حسنین زیدی، عارف مانی، مفتی محمد ہاشم، علامہ قنبر علی شاہ، مولانا رجب علی بنگش، علامہ شبیر طاہری اور رضی حیدر رضوی بھی شریک ہوئے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اکادمی کے کرتے ہوئے نے اکادمی
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔