کراچی:3خواتین کی موت کامعمہ حل‘ باپ اور بیٹا گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-01-12
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گلشن اقبال کے رہائشی فلیٹ سے ماں بیٹی اور بہو کی لاشیں ملنے کے معاملے پر انویسٹی گیشن پولیس نے تہرے قتل کے واقعے کی گتھی سلجھاتے ہوئے گھر کے سربراہ اور بے ہوشی کی حالت میں ملنے والے بیٹے کو باقاعدہ گرفتار کر لیا۔تفصیلات کے مطابق گرفتار باپ بیٹا نے اعتراف جرم بھی کرلیا‘ قتل کا منصوبہ گھر کے سربراہ اور بیٹے نے ملکر بنایا تھا۔پولیس حکام کے مطابق اہلخانہ نے معاشی تنگی کے باعث انتہائی قدم اٹھایا اور موت کو گلے لگایا، تینوں خواتین کی موت چوہے مار ادویات اور نیند کی گولیاں کھانے سے ہوئیں، سب سے پہلی موت بہو 22 سالہ ماہا اور اس کے بعد ماں 52 سالہ ثمینہ اور بیٹی 19 سالہ ثمرین کی ہوئی۔ تفصیلی معائنے کے دوران فلیٹ سے چوہے مار دوا کے 10 کے قریب ریپر ملے تھے اور چوہے مار دوا محلول شکل میں تھی، فلیٹس سے نیند کی گولیوں کے 13 پیکٹس بھی ملے ہیں‘ گھر کے سربراہ اقبال نے ماں، بیٹی اور بیٹے کو جوس میں زہریلی دوا ملا کر پلائی، بیٹے کو تڑپتا دیکھ کر باپ دوا ملا جوس کا گلاس پینے کی ہمت نہ کر سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک