کراچی: فلیٹ سے تین خواتین کی ہلاکت، باپ اور بیٹے نے قتل کا اعتراف کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے رہائشی فلیٹ میں گزشتہ چند روز قبل پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک فلیٹ سے تین خواتین کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کو گلشنِ اقبال بلاک ون کے رہائشی فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں برآمد ہونے والے اس سنگین واقعے میں ملوث باپ اور بیٹے نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور انہیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجوہات معاشی تنگی بتائی ہیں، متاثرہ فیملی نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرض لیا ہوا ہے، تاہم تحقیقات کا دائرہ ہر پہلو سے وسیع رکھا گیا ہے تاکہ وقوعہ کے تمام پہلوؤں کو سمجھا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے پیچھے منصوبہ بندی گھر کے سربراہ محمد اقبال اور اس کے بیٹے نے مشترکہ طور پر کی تھی، تینوں خواتین کی اموات چوہے مار ادویات اور نیند کی گولیوں کے استعمال سے ہوئی، جس میں سب سے پہلی جان بہو 22 سالہ ماہا کی گئی، اس کے بعد 52 سالہ ماں ثیمنہ اور 19 سالہ بیٹی ثمرین کی ہلاکت ہوئی۔
پولیس کے مطابق فلیٹ سے ایک شخص بھی نیم بے ہوشی کی حالت میں ملا تھا، جس نے اس افسوسناک سانحے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا، پولیس نے ابتدائی طور پر گھر کے سربراہ اور اسپتال میں زیر علاج ان کے بیٹے یاسین کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی تھی اور اب دونوں نے قتل کا اعتراف کر کے تحقیقات کو مزید آگے بڑھا دیا ہے۔
اس مقدمے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے اور شہری حلقوں میں اس افسوسناک واقعے کے بعد خوف اور تشویش کی فضا قائم ہے۔ گلشن اقبال کے اس واقعے نے معاشرتی اور قانونی سطح پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ عدالت کے ذریعے انصاف کی مکمل کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ جرم کے مرتکب افراد کی قانونی گرفت یقینی بنائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلیٹ سے
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئیں۔
پولیس کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود میں بھینس کالونی کے قریب ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت جاوید عرف راول کے نام سے ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اور ماضی میں 15 سے زائد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور نقد رقم بھی برآمد ہوئی۔
دوسری کارروائی اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں کی گئی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
زخمی ملزم سہیل کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی اکرم کو تھانے منتقل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیںکراچی، پولیس اور ایس آئی یو کے ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے، 1 ڈاکو ہلاک، 3 زخمی حالت میں گرفتار
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر بہادرآباد تھانے کی حدود میں کنگری ہاؤس کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ڈاکو گرفتار کیے گئے جن میں ایک زخمی ملزم جان شیر بھی شامل ہے۔
زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔
ایک اور کارروائی فیروز آباد پولیس اور شاہین فورس نے جیل چورنگی کے قریب مشترکہ طور پر کی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورک سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔