عزیر بلوچ اسلحہ و گولہ بارود منگوانے کے کیس میں بھی بری
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-08-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ/ جوڈیشل کمپلیکس کی عدالت نے بلوچستان سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود منگوانے کے کیس میں عدم شواہد پر لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو بری کردیا۔پراسیکیوشن لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔عدالت نے عدم شواہد پر لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو بری کردیا۔وکیل صفائی حیدر فاروق جتوئی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ عزیر بلوچ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، پراسیکیوشن کے پاس ملزم کے خلاف کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، عزیر بلوچ کو مقدمہ سے بری کیا جائے۔پراسیکوشن کے مطابق 7 مئی 2012 کو پولیس نے ملزم شمس الدین کو گرفتار کیا تھا، ملزم سے بڑی تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا تھا، تفتیش پر ملزم نے اسلحہ و گولہ بارود عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کے لئے منگوانے کا اعتراف کیا، ملزم نے بتایا کہ اسلحہ بلوچستان سے لاکر عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کو دیتے تھے، دبئی سے انٹرپول کے ذریعے عزیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد 2021 میں مقدمہ میں شامل کیا گیا تھا، عزیر بلوچ کے خلاف سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلحہ و گولہ بارود عزیر بلوچ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔