ایف بی آر نے اسٹیل سیکٹر کے لیے ویلیو آف سپلائی دوبارہ طے کر دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے اسٹیل سیکٹر میں سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مقامی طور پر تیار کی جانے والی اسٹیل مصنوعات کی کم از کم ویلیو آف سپلائی دوبارہ مقرر کر دی ہے۔
اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مقامی سطح پر تیار ہونے والی تمام اسٹیل مصنوعات پر سیلز ٹیکس اب نئی مقرر کردہ ویلیو پر وصول کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے 17 اکتوبر 2024 کو جاری ہونے والا پچھلا نوٹیفکیشن 1636(I)/2024 منسوخ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن 2402(I)/2025 جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 2، ذیلی شق 46 کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق جاری کیا گیا۔
نئے نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ اسٹیل بار اور دیگر لمبی اسٹیل مصنوعات کی کم از کم قیمت وہی ہوگی جو پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اپنی ویب سائٹ پر لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی اور اسلام آباد کی اوسط ریٹیل قیمت کے طور پر ہر ماہ شائع کرے گا۔
اس اوسط قیمت میں سے 1500 روپے فی میٹرک ٹن کمی کی جائے گی، اور یہی ویلیو سیلز ٹیکس کے تعین کے لیے استعمال ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے اسٹیل بلٹس کی کم از کم قیمت اسٹیل بار کی قیمت کا 85 فیصد، اسٹیل انگوٹس/بلا کی قیمت اسٹیل بار کی قیمت کا 80 فیصد اور شپ پلیٹس کی قیمت اسٹیل بار کی اوسط قیمت کا 75 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
یہ تمام ریٹس سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 3(1) کے تحت لاگو ہونے والے ایڈ ویلورم سیلز ٹیکس کے تعین کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا نظام اسٹیل سیکٹر میں ٹیکس شفافیت بہتر کرے گا، ٹیکس چوری روکے گا اور قومی ریونیو میں اضافہ کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹیل بار سیلز ٹیکس کی قیمت کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔