اسلام آباد:

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا۔

اعلامیہ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس محمود خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک کی سیاسی، آئینی اور پارلیمانی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔  اجلاس میں علامہ راجہ ناصر، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں اپوزیشن جماعتیں، بار کونسلز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مدعو ہوں گی، مصطفیٰ کھوکھر، حسین یوسفزئی اور خالد چوہدری پر مشتمل انتظامی کمیٹی قائم کردی گئی۔

 اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں پر مبینہ ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مذاکرات سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرے، عمران خان کے سیاسی رفقا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتیں فوری بحال کی جائیں۔ عمران خان کے زیر التوا مقدمات کی میرٹ پر فوری سماعت شروع کی جائے۔

 اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے اشاروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ غیر آئینی اقدام کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت فوری بحال کی جائے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جدوجہد آئین و جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے جاری رہے گی۔

محمود خان اچکزئی:

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ٹوٹنے کے بعد آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں، ملک میں آئین نام کی چیز ہی نہیں ہے، لوگوں کا رہبر جیل میں ہے، ان میں اتنی بھی شرافت نہیں کہ جیل میں ملاقات کی اجازت دے دیں۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں، جس پارٹی سے مذاکرات کرنے ہیں اس کا لیڈر جیل میں ہے، جب عوام اٹھتی ہے تب سب کچھ جل جاتا ہے، ان کو ڈائلاگ کے لئے بسم اللہ کرنی چاہئے، اگر ملاقات کی اجازت ہو گی تو ڈائیلاگ کے لئے قدم بڑھایا جائے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان:

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا بہت ہو گیا، ان دو سالوں میں دھمکیاں اور دست و گریبان بہت ہو گئے، مینڈیٹ چوری کے بعد ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے دھرنا نہیں دیا، آپ والدین کو جیل میں رکھ کر انہیں کھینچیں تو بچے کیسے آپ کے ساتھ بیٹھے گے، اگر آپ نہیں سمجھتے تو عوام آپ کو سمجھا دے گی۔

انہوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عوام خان سے نہ ملے تو یہ ممکن نہیں ہے، پاکستان کی عوام کو طیش نہ دلوائیں، اس سے جمہوریت کا نقصان ہو گا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ملاقات اس لئے نہیں کرواتے کہ وہاں سے ٹویٹ آتی ہے تو بشریٰ بی بی کی ملاقات کیوں بند ہے، عوام کے منتخب نمائندے ادھر آ کر کہیں گے کہ ہمیں بانی سے ملاقات کروائو،  یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ سسٹم کا فالٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم پارلیمنٹ میں بات کرنا چاہ رہے تھے، جس طریقے سے پارلیمنٹ کا اجلاس چلایا گیا اس طرح سے اگر یہ چلائیں گے تو تھرڈ فورس فائدہ حاصل کرے گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین اسلام آباد ملاقات کی اجلاس میں نے کہا کہ جیل میں کیا گیا کی جائے گیا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال