اڈیالہ کے قریب دھرنا ختم، پولیس کا مظاہرین کو منتشر کرنےکیلئے واٹر کینن کا استعمال، پی ٹی آئی کارکنوں کا پتھراؤ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کا دھرنا رات 2 بجے ختم کروا دیا۔
ذرائع کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، جس کی زد میں سینیٹر مشتاق بھی آگئے جو عمران خان کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وہاں موجود تھے۔
اطلاعات کے مطابق کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا، جس کے بعد متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی تھی، جس کے باعث انہوں نے جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دیا تھا۔
پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ناکے پر ہی روک دیا۔ اس دوران علیمہ خان کارکنوں کو مسلسل پرسکون رہنے اور پیچھے ہٹنے کی ہدایت کرتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں، پولیس اہلکار ہمارے بھائی ہیں اور بہت تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی موجودگی کی وجہ سے کارکنوں کو پیچھے رکھا جا رہا ہے اور پولیس خود بھی مشکل صورتحال میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔