ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 ملاقات میں قانون سازی کے مراحل اور ایوان کی کارروائیوں پر بھی گفتگو ہوئی اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

 سپیکر ملک احمد خان نے کاروبار میں آسانی کے لیے ای بز متعارف کرانے پر وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں سب کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی پر ان کی تعریف کی۔

لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز

 وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار بڑے پراجیکٹس چھوٹے شہروں سے شروع کیے جا رہے ہیں اور صوبے میں کاروباری مواقع بہترین ہیں، سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ہر ممکن مدد کرے گی اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتشار کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔

 ملک احمد خان نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا مرکز صرف بڑے شہر نہیں بلکہ ہر پسماندہ علاقہ بھی ہے۔ 
 

ماضی کی معروف اداکارہ سیمی زیدی کس حال میں اور کہاں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مریم نواز

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف