پاکستان اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے درمیان ایک اہم بحث زور پکڑ چکی ہے، کہ کیا اس وقت سرمایہ کاری کے لیے روایتی محفوظ سرمایہ سمجھا جانے والا سونا بہتر ہے یا پھر تیزی اور خطرے کے امتزاج سے بھرپور بٹ کوائن؟

حالیہ ہفتوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ، مقامی سطح پر روپے کی قدر میں کمی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بڑھتے رجحان نے اس سوال کو پہلے سے زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ کیونکہ اس وقت ہر طرف انویسٹمنٹ کے چرچے ہیں۔ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ اور پھر بٹ کوائن کے حوالے سے پیشین گوئیاں بار بار انویسٹرز کو انویسٹ کرنے پر مجبور کررہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سونا خریدتے ہوئے کن باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے؟

پاکستان میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت اس وقت قریباً 4 لاکھ 16 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جیولرز کے مطابق پچھلے ایک مہینے میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اتنی تبدیلیاں اور سرمایہ کاروں کا ’محفوظ سرمایہ‘ کی طرف رجحان ہے۔ لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران سونے کی قیمت میں ایک بار پھر مسلسل کمی ہوئی۔

جس 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت قریباً 4 لاکھ 56 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ وہ قیمت کچھ ہی دنوں میں مسلسل گرتی ہوئی نظر آئی، اور اس وقت فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 16 ہزار روپے ہے۔ اب سونے کی قیمت کے حوالے سے مارکیٹ میں مختلف آرا پائی جا رہی ہیں۔

کیا سونے کی قیمت 5 لاکھ روپے تولہ تک جا سکتی ہے؟

مارکیٹ کو سمجھنے والے کچھ جیولرز کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت 2025 کے آخر تک 5 لاکھ تک جا سکتی ہے۔ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ قیمت 3 لاکھ 60 ہزار سے 3 لاکھ 80 ہزار تک بھی آ سکتی ہے۔

راولپنڈی صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندے محمد مجتبیٰ کے مطابق سونا ہمیشہ سے افراطِ زر کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روپے کی قدر غیر مستحکم ہو۔

انہوں نے کہاکہ رواں مہینے بھی سونے کی خریداری میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، بالخصوص ان سرمایہ کاروں کی جانب سے جو اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن ابھی حالیہ کمی سے سرمایہ کار خاصے مایوس ہوئے ہیں۔

’لیکن سونے کی قیمتیں گرنے کے بعد دوبارہ پھر سے اوپر جائیں گی، اور انٹرنیشنل مارکیٹ سے تو لگ رہا ہے کہ گولڈ کی قیمت 2025 کے آخر تک 5 لاکھ پر پہنچ جائے گی۔‘

دوسری جانب بٹ کوائن ایک بالکل مختلف منظر پیش کررہا ہے۔ عالمی سطح پر بٹ کوائن کی قیمت اس وقت قریباً ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر کے آس پاس ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں یہ ایک لاکھ 25 ہزار ڈالر تک گیا، مگر بعد میں مارکیٹ میں تصحیح کے باعث واپس نیچے آیا۔

بٹ کوائن کے ماہرین کے مطابق اس وقت بٹ کوائن ایک ’ہائی رسک، ہائی ریوارڈ‘ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں قیمت میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ پاکستان میں بھی بٹ کوائن ٹریڈنگ میں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر نوجوان سرمایہ کاروں اور فری لانس کمیونٹی کے درمیان۔

’’ہائی رسک ہائی ریوارڈ‘ کے چکر میں زیادہ سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہیے‘

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ ’ہائی رسک ہائی ریوارڈ‘ کے چکر میں انویسٹرز کو اپنی پوری جمع پونجی نہیں لگا دینی چاہیے۔ صرف اتنی ہی انویسٹمنٹ لگائی جانی چاہیے، جتنا نقصان وہ برداشت کر سکتے ہیں۔

کرپٹو کرنسی کے ماہر ڈاکٹر اسامہ احسان کے مطابق بٹ کوائن ایک نیا فینامینا ہے، لیکن ابھی یہ مکمل طور پر ریگولیٹڈ نہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مالیاتی نظام کمزور اور قانون سازی سست ہے، وہاں کرپٹو میں سرمایہ کاری انتہائی احتیاط سے کرنی چاہیے۔

’اگر سونے اور بٹ کوائن کا موازنہ کیا جائے کہ کون سی چیز انویسٹمنٹ کے لیے زیادہ بہترین ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ سونا ایک آزمودہ اثاثہ ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، جبکہ بٹ کوائن اب بھی ایک خطرناک کھیل ہے جس کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ کرپٹو کے حوالے سے پاکستان میں تو کوئی باقاعدہ فریم ورک ہی موجود نہیں ہے۔‘

سونا صدیوں سے ایک محفوظ سرمایہ کاری مانی جاتی ہے، ڈاکٹر محمد ناصر

اسی حوالے سے کراچی آئی بی اے یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس کے چیئرپرسن ڈاکٹر محمد ناصر نے کہاکہ سونا صدیوں سے ایک محفوظ سرمایہ کاری مانی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کا منافع فوری نہیں، لیکن یہ استحکام فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بٹ کوائن اس کے برعکس تیز رفتار منافع کا امکان دیتا ہے، لیکن اسی تناسب سے نقصان کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔ پاکستانی معیشت کے غیر یقینی حالات میں بہتر حکمت عملی سے آگے بڑھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: بٹ کوائن کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، امریکی ڈالر تنزلی کا شکار

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت جذبات میں آکر نہ ہی تو بہت زیادہ سرمایہ کاری سونے میں کرنی چاہیے اور نہ ہی بٹ کوائن میں، بٹ کوائن کی سرمایہ کاری اس لیے بھی زیادہ غیر محفوظ ہے کیونکہ پاکستان میں ابھی تک اس کا کوئی لیگل فریم ورک ہی موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی تجزیہ کار ایلون ہارن نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’بٹ کوائن‘ مستقبل کی معیشت میں وہ کردار ادا کرے گا جو پچھلی صدی میں سونے نے کیا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ یہ ایک بے حد غیر مستحکم مارکیٹ ہے، سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو میں تنوع لانا ہوگا تاکہ ایک اثاثے کی گراوٹ پورے سرمایہ کو متاثر نہ کرے۔

پاکستان میں بٹ کوائن کے حوالے سے قانونی پیش رفت بھی جاری ہے۔ وزارتِ خزانہ نے حالیہ بیان میں تصدیق کی کہ حکومت ڈیجیٹل کرنسیوں کے ضابطے (regulations) پر کام کررہی ہے تاکہ ملک میں کریپٹو ٹریڈنگ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے بٹ کوائن مائننگ اور ڈیجیٹل ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس سے اس صنعت کو نئی سمت مل سکتی ہے۔

’ملک میں کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کو ابھی قانونی حیثیت حاصل نہیں‘

دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کو ابھی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر رضا باقر نے بھی ماضی میں کہا تھا کہ جب تک کرپٹو کرنسیز کو ریگولیٹری تحفظ نہیں ملتا، عوام کو اپنے سرمایے کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

سرمایہ کاری کے ماہرین کے مطابق اس وقت سونا اور بٹ کوائن دونوں کے لیے دلائل مضبوط ہیں۔ ایک طرف سونا افراطِ زر، کرنسی کی گراوٹ اور سیاسی غیر یقینی کے وقت تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ بٹ کوائن تیزی والے مالیاتی دور میں بلند منافع کا موقع دے سکتا ہے۔

’سرمایہ کاروں کو دونوں اثاثوں میں توازن رکھنا چاہیے‘

مارکیٹ اینالسٹ اور سرمایہ کار سعد خان کہتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کو دونوں اثاثوں میں توازن رکھنا چاہیے جیسے 70 فیصد سرمایہ سونے یا دیگر محفوظ اثاثوں میں اور 30 فیصد ڈیجیٹل اثاثوں میں ہونا چاہیے تاکہ نہ صرف خطرہ کم ہو بلکہ ممکنہ منافع بھی برقرار رہے۔

’لیکن سونے کی ابھی جو صورتحال چل رہی ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کو انتظار کرنا چاہیے، اور مارکیٹ کو تھوڑا سمجھ لینا چاہیے تاکہ بڑے نقصان سے بچا سکیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری ہمیشہ اپنی مالی حالت، وقت کے افق اور رسک برداشت کے مطابق کرنی چاہیے۔ بٹ کوائن جہاں ایک موقع ہے، وہیں ایک چیلنج بھی ہے، اور سونا اگرچہ قدیم ہے، مگر آج بھی اپنی چمک برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سونے کی تجارت پر پابندی ختم کردی

’یعنی سرمایہ کاروں کے لیے سمجھداری یہی ہے کہ وہ ایک طرف کے بجائے متوازن حکمتِ عملی اپنائیں، کیونکہ آنے والا وقت دونوں کے لیے غیر یقینی مگر دلچسپ ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بٹ کوائن جیولرز سرمایہ کاری سونا گولڈ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بٹ کوائن جیولرز سرمایہ کاری گولڈ وی نیوز سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ سونے کی قیمت سرمایہ کاری پاکستان میں کے حوالے سے کرنی چاہیے بٹ کوائن کے مطابق انہوں نے سکتی ہے ملک میں کے لیے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر