پاکستان اور امریکہ کا غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام پر اتفاق،موثر اقدمات تجویز
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پاکستان اور امریکہ کا غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام پر اتفاق،موثر اقدمات تجویز WhatsAppFacebookTwitter 0 6 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے ملاقات کی جس میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، انسداد منشیات اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ اس ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی غور کیا گیا، دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منشیات کی روک تھام، معلومات کے تبادلے اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
امریکی سفیر نے انسداد منشیات اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے ہرممکن تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی جبکہ محسن نقوی نے بتایا کہ غیر قانونی امیگریشن کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ایئرپورٹس پر منشیات کیسز کی نشاندہی اولین ترجیح ہے اور ملک کے تمام ایئرپورٹس پر جدید ترین سکیننگ مشینیں نصب کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی سطح پر غفلت یا کمزوری باقی نہ رہے، حکومت انسداد منشیات کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی افغانستان سے منشیات درجنوں ممالک میں پہنچ کر نوجوان نسل کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، انسداد منشیات کے لیے امریکا کی پیشکش کردہ ٹیکنیکل سپورٹ کا خیر مقدم کیا جائے گا، وزیراعظم کی ہدایت کے تحت نیشنل نارکوٹکس کوآرڈینیشن سینٹر جلد قائم کیا جائے گا تاکہ تمام اداروں کے درمیان مربوط تعاون ممکن ہو سکے۔
اس موقع پر اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارکردگی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سالانہ کانٹر نارکوٹکس مہم کے دوران 134 ٹن منشیات قبضے میں لی گئیں۔ 2001 ملزمان گرفتار ہوئے جن میں 75 غیر ملکی شامل ہیں جب کہ ضبط شدہ منشیات کی مالیت 12.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران کی شناخت ملک دشمنی، جنگ میں بھی غلط زبان استعمال کی: وزیر دفاع عمران کی شناخت ملک دشمنی، جنگ میں بھی غلط زبان استعمال کی: وزیر دفاع نیٹ میٹرنگ سے متعلق اصلاحات آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرائی جائیں گی، اویس لغاری نواز شریف کی قیادت میں آئندہ انتخابات میں تاریخی نتائج آئیں گے: وزیراعظم کراچی کے ابراہیم کے بعد لودھراں کا 7 سالہ ریحان بھی کھُلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ملک کا دفاع اہم، پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن تھا نہ ہوگا: بیرسٹر گوہر فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن ریڈ لائن کراس نہیں کی ، خواجہ آصفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔