ارشد ندیم نے نیشنل گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں گولڈ میڈل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
واپڈا کے اسٹار جیولن تھروئر اور پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے نیشنل گیمز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 81.81 میٹر کی شاندار تھرو کرکے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا۔
نیشنل گیمز میں جاری مقابلے میں واپڈا ہی کے یاسر سلطان نے 70.7 میٹر کے تھرو کے ساتھ سلور میڈل حاصل کیا جبکہ آرمی کے ابرار علی نے 67.
مزید پڑھیں: نیشنل گیمز سے پاکستان کے لیے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، ارشد ندیم
ارشد ندیم کی شاندار تھرو نے ایونٹ میں ان کی بھرپور برتری ثابت کی اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں ان کے متاثرکن ریکارڈ کا تسلسل برقرار رکھا۔
مقابلوں سے قبل میڈیا سے گفتگو میں ارشد ندیم نے کہا تھا کہ وہ مکمل فِٹ ہیں اور ان کی توجہ ڈائمنڈ لیگ، کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل گیمز ملک کے لیے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ ملک میں کھیلوں کا ماحول بہتر ہوا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس سال ایتھلیٹکس کے ہر ایونٹ میں مضبوط ٹیلنٹ سامنے آئے گا۔ جیولن اسٹار نے مزید کہا کہ اب بڑی تعداد میں کھلاڑی نیشنل گیمز میں حصہ لے رہے ہیں، جو مثبت تبدیلی کا نشان ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا ایک اور اعزاز، ارشد ندیم نے اسلامک سولیڈریٹی گیمز میں گولڈ میڈل جیت لیا
انہوں نے بتایا کہ نیشنل گیمز میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی کیمپ میں شامل کیا جائے گا، جبکہ آئندہ سال پاکستان میں شیڈول متعدد مقابلے نوجوان ایتھلیٹس کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مزید مواقع فراہم کریں گے۔
ارشد ندیم نے نیشنل گیمز کا باضابطہ افتتاح بھی کیا اور جیولن تھرو کرتے ہوئے پاکستانی پرچم تھام کر میدان میں داخل ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔