data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251211-01-26
اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے‘ آئی ایم ایف کا انتباہ۔ بیرونی طلب کمزور اور تجارت میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک۔ تفصیلات کے مطابقعالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔آ ئی ایم ایف نے گزشتہ 2 سال کی معاشی کارکردگی سمیت رواں مالی سال کی معاشی پروجیکشنزبھی جاری کردیں۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 4.

5 فیصد سے 6.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جون2026 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.9 فیصدتک پہنچ سکتی ہے جب کہ مہنگائی کی شرح جون 2025 میں 3.2 فیصد تھی۔آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.2 فیصد پہنچنے کا امکان ہے، پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 8 فیصد سے کم ہوکر 7.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، مالی سال 2026 میں معیشت میں ٹیکسوں کاحصہ 16.3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 میں معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 15.9 فیصد تھا، مالی سال 2026 میں مالیاتی خسارہ 4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جو مالی سال 2025 میں 5.4 فیصد تھا جب کہ 2026 میں معیشت میں قرضوں کا بوجھ 69.6 فیصد تک ہوسکتا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2025 میں معیشت پر قرضوں کا بوجھ 70.6 فیصد تھا، 2026 میں غیرملکی قرضے معیشت کا 22.5 فیصد تک ہوسکتے ہیں جب کہ مالی سال 2025 میں غیرملکی قرضے معیشت کا 22.5 فیصد تھے۔آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں سرمایہ کاری معیشت کا 0.5 فیصد ہوسکتی ہے جو2025 میں معیشت کا 0.6 فیصد تھی۔اس کے علاوہ مالی سال 2026 میں زرمبادلہ ذخائر 17.8ارب ڈالر ہوسکتے ہیں جو 2025 میں 14.5ارب ڈالرتھے۔علاوہ ازیںایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی جی ڈی پی 2025 کے لیے2.7 فیصد سے بڑھا کر3.0کردی ہے اور بتایا ہے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں گروتھ ریٹ 5.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔پاکستان کی معیشت سے متعلق ایشیائی ترقیاتی بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں تیزی آئی ہے اور رواں مالی سال میں بھی مضبوط بہتری متوقع ہے۔رپورٹ میں 26-2025 کی گروتھ میں بھی بہتری اور کاروباری ماحول سازگار قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ جون 2025 کے سیلاب کے باوجود معاشی رفتار برقرار رہی ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے رپورٹ میں بتایا کہ پرائیوٹ سیکٹر کریڈٹ اور کھپت میں اضافہ گروتھ کا باعث بنا، سرمایہ کاری اور انڈسٹری میں ریکوری سے ترقی کا رجحان جاری ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بیرونی طلب کمزور اور تجارت میں غیر یقینی صورت حال بدستور برقرار ہے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں مہنگائی مالی سال 2025 میں ترقیاتی بینک ا ئی ایم ایف کے مطابق معیشت کا سکتی ہے فیصد تک کی شرح

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم