پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بسنت 6، 7 اور 8 فروری کو منائی جائے گی اور ان دنوں میں قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی لازم ہوگی۔ پتنگوں اور ڈور کے لیے خصوصی کیو آر کوڈ جاری کیے جائیں گے جبکہ فائرنگ، ہلڑ بازی اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل گورنر پنجاب سلیم حیدر کے دستخطوں سے بسنت کی مشروط اجازت کا آرڈیننس جاری کیا گیا تھا، جس میں واضح شرائط اور سزائیں شامل ہیں۔ آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں 2001 میں لگنے والی پتنگ بازی کی پابندی 25 سال بعد ختم کی گئی ہے، تاہم 18 سال سے کم عمر بچوں کو پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں والدین یا سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔
آرڈیننس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف دھاگے سے بنی ڈور ہی استعمال کی جاسکے گی جبکہ دھاتی یا تیز دھار مانجھے کے استعمال پر سخت سزائیں مقرر ہیں، جن میں کم از کم 3 سال اور زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ شامل ہے۔ اسی طرح ضلع میں موٹرسائیکلوں کو بھی متعین حفاظتی اصولوں کے مطابق چلانا ہوگا تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔