سٹی42:  باخبرسیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا ہے کہ  سیاسی سرگرمیوں مین ملوث ہونے اور دوسرے جرائم مین سزا پانے والے آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی فیض حمید 9 مئی کو ریاست کے اداروں اور قومی علامتوں پر  منظم حملوں  کی منصوبہ بندی سے متعلق شواہد دیں گے۔

ایک نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ فیض حمید کو ابھی ایک کیس میں سزا ہوئی ہے اور پوری پی ٹی آئی کمپرومائزڈ ہے۔

 کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی, خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی

فیصل واوڈا نے کہا کہ تفتیش کا دائرہ کار بہت وسیع کیا جا رہا ہے، جج، بیوروکریٹس اور وی لاگرز جو بھی ملوث تھے سب کا ٹرائل ہوگا، شواہد اور گواہی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیض حمید گواہی دینے جا رہے ہیں کہ عمران خان بطور وزیر اعظم کیا ہدایات دیتے تھے، وہ 9 مئی کی منصوبہ بندی سے متعلق بھی شواہد دیں گے، جس نے جو جرم کیا ہے اس کی سزا ملے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے مائنس ہو چکا ہے اور لاتعلقی بھی کر رہے ہیں۔

  انگاروں پر چلنے والے آٹھ انسانوں کے ساتھ "سوشل میڈیا انصاف" کے بعد کیا ہوا؟

فیصل واوڈا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک شخص کی سینیٹرشپ جانے والی ہے، شیخ وقاص اکرم بھی طرم خان بنے ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور پابندی تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ پارٹی لیٹ گئی ہے، آج یہ کہہ رہے ہیں بات چیت کیلیے تیار ہیں گورنر راج ختم نہیں لیکن تاخیر ہو سکتی ہے، پی ٹی آئی لیٹ گئی عمران خان کو مائنس کر دیا ہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے فیض حمید

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان