پنجاب کی 94 تحصیلوں میں کیمرے نصب کرنے کے فنڈز جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
عرفان ملک:پنجاب کی ہرتحصیل اب مکمل طور پر سیف سٹی بننے کے آخری مراحل میں، پنجاب حکومت نے 94 تحصیلوں میں کیمرے نصب کرنے کے فنڈز جاری کر دئیے۔
حکومت پنجاب نے سیف سٹی اتھارٹی کیلئے 15ارب کے فنڈز جاری کر دیئے، کیمروں کی تنصیب کیلئے پوائنٹس کی نشاندہی اور سروے مکمل کر لئے گئے۔
جرائم و حادثات کی مناسبت سے تمام تحصیلوں کی میپنگ کی گئی، نئے کیمروں کی فیڈ کے لئے کوئی نئی بلڈنگ نہیں بنے گی۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
تحصیل کے تھانوں میں کیمروں کی فیڈ براہ راست جائے گی، تھانوں کی فیڈ مرکزی سینٹرز تک پہنچے گی، لاہور سیف سٹی کا ڈیٹا 6 بیٹا بائیٹ سے بڑھا کر 15 بیٹا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
3بیٹا بائیٹ کا ڈیٹا فیصل آباد ، ملتان، راولپنڈی کو دیا جائے گا، پنجاب میں سیف سٹی کوریج 30جون 2026 تک مکمل کرلی جائے گی ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیف سٹی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز