متھیرا نے راکھی کو ’منحوس عورت‘ کیوں کہا؟ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ و میزبان متھیرا نے حالیہ ایک ٹی وی انٹرویو میں بھارتی اداکارہ و ماڈل راکھی ساونت کے ساتھ پیش آئے ایک ناخوشگوار تجربے پر کھل کر بات کی ہے۔
متھیرا کے مطابق انہوں نے چند ماہ قبل راکھی ساونت کا انٹرویو کیا تھا جو ان کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا۔ متھیرا نے بتایا کہ اس انٹرویو کے دوران راکھی نے انہیں بہت تنگ کیا۔
متھیرا نے بتایا کہ اُس وقت راکھی پاکستانی اداکار ڈوڈی خان سے شادی کی خواہش کے باعث خبروں میں تھیں اس لئے ان کا انٹرویو کیا گیا۔ انٹرویو کے دوران راکھی غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کر رہی تھیں اور بستر پر لیٹ کر انٹرویو دے رہی تھیں۔
A post common by InShort News (@inshort.
متھیرا کے مطابق راکھی جان بوجھ کر انہیں تنگ کر رہی تھیں بار بار لائن کاٹ رہی تھیں اور انہیں بولنے کا موقع نہیں دے رہی تھیں اور وہ کیمرے کے سامنے اور پسِ پردہ دو مختلف شخصیات رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ راکھی ساونت بدتمیزی کو شہرت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ متھیرا نے راکھی کو ’’منحوس عورت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کے دوران وہ جان بوجھ کر مسائل پیدا کر رہی تھیں جبکہ ہم نے راکھی کو انٹرویو کے لیے معاوضہ بھی دیا تھا، تاہم وہ پھر بھی بار بار شو میں رکاوٹ ڈال رہی تھیں۔
متھیرا کا یہ ویڈیو کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہا ہے جس پر صارفین کی جانب سے بھی دلچسپ کیے جارہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انٹرویو کے متھیرا نے رہی تھیں کر رہی
پڑھیں:
وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
پاکستان کی نامور ٹی وی شخصیت فخرِ عالم نے سابق کرکٹرز وسیم اکرم اور مصباح الحق کے ساتھ حال ہی میں حج کا فریضہ سرانجام دیا۔تینوں شخصیات نے حج پر سر کے بال نہیں منڈوائے جس کی وجہ فخرِ عالم نے ایک ویڈیو میں بتائی۔فخرِ عالم نے کہا کہ 'حج پر آنے سے قبل ہم نے بہت سے علمائے کرام سے اس بارے میں پوچھا، ہمیں واضح طور پر بتایا گیا کہ ہر کسی کے پاس دو آپشنز موجود ہوتے ہیں کہ چاہے وہ سر منڈوائیں اور چاہیں تو نہ منڈوائیں'۔ٹی وی میزبان نے کہا 'ہاں سر منڈوانے کی زیادہ فضیلت ہے لیکن آپ تھوڑے سے بال بھی کٹواسکتے ہیں تاکہ فرض پورا ہوجائے'۔فخرِ عالم کا مزید کہنا تھا 'ہم پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی کہ کیا آپ وہاں پکنک کرنے گئے تھے؟ تو میں بتاتا چلوں کہ اس میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور جب آپ پورا دن گزارتے ہیں تو اس میں عبادت بھی ہوتی ہے، اس میں انسان کبھی غمزدہ بھی ہوتا ہے، کبھی ہنس بھی رہا ہوتا ہے اور کبھی دوستوں سے خوش گپیاں بھی لگاتا ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'یہ ہی حج ہے کہ مسلمان آپس میں مل جل کر رہیں اور ایک دوسرے سے تعلق قائم کریں'۔