ڈہرکی،پولیس کی کامیاب کارروائی، شراب کا اسٹاک برآمد
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈہرکی( نمائندہ جسارت ) ڈہرکی میں شراب کی بھاری مقدار چھپائے جانے کی خفیہ اطلاع ملتے ہی خفیہ ادارے کے اہلکار و ذمہ داران اور ڈی ایس پی عبدالقادر سومرو اور ایس ایچ او تھانہ ڈہرکی مصور حسین قریشی نے اپنی ٹیم نے مشترکہ طور پر ڈہرکی شہر کے ہندو کمیونٹی کے پوش رہائشی علاقے چاند محلہ میں ایک گھر میں چھاپا مارکر شراب کی بڑی کھیپ برآمد کر لی۔جبکہ 3 ملزمان پرشوتم لعل،بیشم اور جئے کمار پولیس کو دیکھتے ہی اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ادھر خفیہ ادارے اور پولیس اپنی مشترکہ کارروائی کے دوران برآمد شدہ شراب کی تفصیلات میں 2 کارٹون سلور ٹاپ شراب کے جس میں بڑی بوتلیں تھیں اور 3 کارٹون آدھیہ شراب سلور ٹاپ کے اور 1 کارٹون سفاری شراب کا جس میں 12 بڑی بوتلیں تھیں،6 کارٹون سفید کلر والی شراب کے اور 8 کارٹون ڈرائیجن شراب کے 42 پوے ہیں اور 8 کارٹون واٹ ون شراب کے اور 5 کارٹون واٹ ون شراب کے جس میں چھوٹے پوے تھے اور 1 کارٹون کیو ڈی ایل شراب کا اور 5 کارٹون کیو ڈی ایل شراب جس میں چھوٹے پوے تھے 1 کارٹون فوریکا شراب کا اور 1 کارٹون کلب شراب کا جس میں 17 آدھیہ شراب تھی اور اس طرح سے 2 کارٹون لاوا شراب کے جس میں 10 بوتلیں تھیں اور 4 کارٹون لاوا شراب کے جس میں سائی کلر کی شراب تھی اور 3 کارٹون لاوا شراب کے جس میں چھوٹے پوے تھے اور 4 کارٹون MD شراب کے جس میں 47 بوتلیں تھیں اور 2 کارٹون جنجلی شراب کے جس میں 24 بوتلیں تھیں اور 54 مختلف قسم کی بیئر کی بوتلیں تھیں اور اسکے علاوہ 100 سے زیادہ مختلف قسم کے شراب کے آدھیہ برآمد ہوئے ہیں اور اس ہی طرح سے تقریباً 50 سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی شراب کے مختلف قسم کے کارٹون برآمد ہوئے ہیں۔اور ساری کی ساری شراب کی اس برآمد شدہ بھاری کھیپ کو موقع سے فرار ملزمان نے فروخت کرنے کیلیے اپنے گھر میں اسٹاک کر کے چھپا کر رکھی ہوئی تھی۔پولیس تاہم ڈہرکی پولیس نے برآمد کی گئی شراب کو اپنی تحویل میں لے کر فرار ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شراب کے جس میں شراب کی شراب کا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔