سپریم کورٹ میں ملازمین سے ملاقاتوں پر پابندی عائد، آفس آرڈر جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ میں ملازمین سے ملاقاتوں پر پابندی عائد، آفس آرڈر جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 6 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالت کے اندر ملازمین سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے۔
اس سلسلے میں جاری آفس آرڈر کے مطابق دفتری اوقات کے دوران ملازمین سے نجی ملاقاتوں کے باعث کام کی رفتار متاثر ہو رہی تھی، جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔آفس آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ دفتری اوقات میں کوئی بھی ملازم کسی پرائیویٹ شہری سے ملاقات نہیں کر سکے گا۔
تاہم اگر کسی کو ملاقات کی اشد ضرورت ہو تو متعلقہ ملازم اپنے سینئر افسر سے اجازت لینے کے بعد سہولت مرکز میں صرف 5 منٹ کے لیے ملاقات کر سکے گا۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد دفتری نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو مزید موثر بنانا ہے، عدالت انتظامیہ نے تمام ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاق صوبوں پر حملہ آور ،ستائیسویں ترمیم آئین و پارلیمنٹ کی روح کے منافی ہے،بیرسٹرگوہر وفاق صوبوں پر حملہ آور ،ستائیسویں ترمیم آئین و پارلیمنٹ کی روح کے منافی ہے،بیرسٹرگوہر رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ کیخلاف کرپشن کیس نیب سے ایف آئی اے منتقل بلوچستان بھر میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ، جلسے جلوس اور اسلحے کی نمائش پر پابندی پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا اہم اجلاس جاری،27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت اٹھارویں ترمیم کا رول بیک تو ممکن ہی نہیں، ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتے ، شازیہ مری پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات مسترد کردیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ملازمین سے سپریم کورٹ پر پابندی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔