حسان نیازی کی کورٹ مارشل کارروائی کیخلاف درخواست پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی اور کورٹ مارشل کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔
عدالت نے فائل واپس چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے کسی دوسرے بینچ میں لگانے کی سفارش کردی۔
درخواست گزار کے وکیل فیصل چوہدری پیش ہوئے، جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حسان نیازی کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ 9 مئی کیس میں گرفتاری کے بعد سویلین عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، تھانہ سرور روڈ پولیس نے میری کسٹڈی ملٹری کو دے دی، کسی عدالتی حکم کے باوجود غیر قانونی طور پر مجھے ملٹری کے حوالے کیا گیا۔
استدعا کی گئی کہ میری ملٹری کسٹڈی میں لینے کا کمانڈنگ آفیسر کا 17 اگست 2023 کا نوٹیفکیشن کلعدم قرار دیا جائے، مجھے ملٹری کسٹڈی میں دینے، ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی، کورٹ مارشل کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائی کورٹ جیل سے رہا کرنے یا انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔