ریاض میں ڈیجیٹل گورنمنٹ فورم 2025 کا آغاز، مملکت کی ڈیجیٹل ترقی عالمی سطح پر نمایاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
سعودی عرب میں ڈیجیٹل گورنمنٹ فورم 2025 کا آغاز ریاض میں شاندار انداز میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ اور ریاض یونیسکو کے تخلیقی شہروں کی فہرست میں شامل
سعودی گزٹ کے مطابق یہ فورم ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی کے زیرِ اہتمام ’اب ہمارا مستقبل‘ کے نعرے کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔
فورم کے چوتھے ایڈیشن میں 2 ہزار سے زائد مندوبین اور ماہرین شریک ہیں جن میں متعدد وزرا، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے رہنما شامل ہیں۔
ڈیجیٹل تبدیلی ہماری قومی ترجیح ہے، احمد الصویانافتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی کے گورنر انجینیئر احمد بن محمد الصویان نے کہا کہ یہ فورم مملکت کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں عالمی ڈیجیٹل انڈیکیٹرز میں نمایاں ترقی کی ہے جو مختلف سرکاری اداروں کی کارکردگی اور تکنیکی اختراعات کا نتیجہ ہے۔
مزید پڑھیے: مِسک گلوبل فورم 19 اور 20 نومبر کو ریاض میں ہوگا
احمد الصویان نے کہا کہ مملکت ایک مربوط ڈیجیٹل مستقبل کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں اختراع اور مصنوعی ذہانت 2 بنیادی ستون ہیں اور یہی ہماری سرکاری کارکردگی بہتر بنانے اور شہریوں و رہائشیوں کے لیے خدمات کو جدید بنانے کا ذریعہ ہیں۔
فورم میں ڈیجیٹل کانٹینٹ ایفیشنسی انڈیکس 2025 کے نتائج بھی جاری کیے گئے جس کے مطابق مجموعی کارکردگی 76.
مزید پڑھیے: پی آئی اے کی ریاض ایئر کے ساتھ کارگو ڈیل، قومی ایئرلائن کو کیا فائدہ ہوگا؟
اس موقعے پر ڈیجیٹل گورنمنٹ ایوارڈ 2025 کے فاتحین کو اعزازات دیے گئے جبکہ انوویشن چیلنج ایکسیلیریٹر 2025 کے کامیاب شرکا کو بھی ان کی شاندار کاوشوں پر سراہا گیا۔
اختراعات، مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی پر توجہفورم کے پہلے دن متعدد ورکشاپس اور پینل سیشنز منعقد کیے گئے جن میں سرکاری اختراع، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
ان سیشنز کا مقصد خدمات میں جدت اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانا تھا۔
نمائش میں 40 سے زائد اداروں کی شرکتفورم جمعرات کو بھی جاری رہے گا جس میں اعلیٰ قیادت کے سیشنز، مکالماتی نشستیں اور ایک بڑی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن نمائش شامل ہے۔
اس نمائش میں 40 سے زائد سرکاری و نجی ادارے اپنی ڈیجیٹل پہل کاریوں، کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں کو پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ریاض کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف کی فٹبال اچھالنے کی دلچسپ ویڈیو وائرل
ڈیجیٹل گورنمنٹ فورم 2025 سعودی عرب کے اس وژن کی علامت ہے جس کے تحت مملکت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے گورننس کے نئے ماڈلز تشکیل دے رہی ہے، ایک ایسا نظام جو موثر، شفاف اور ڈیجیٹل طور پر مربوط ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی کے گورنر انجینئر احمد بن محمد الصویان ڈیجیٹل گورنمنٹ فورم 2025 ڈیجیٹل گورنمنٹ فورم 2025 ریاض سعودی عرب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔