اسلام آباد: وانا کے حملہ آور افغان نکلے، وفاقی دارالحکومت میں سہولت کار، ہینڈلر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
لاہور+ اسلام آباد+ راولپنڈی+ پشاور (نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ این این آئی) کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے دیا۔ دہشتگرد پوری کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے۔ حملے کی منصوبہ بندی خارجی زاہد نے کی۔ خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری "جیش الہند" کے نام سے قبول کی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجی نور ولی فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔ افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے۔ آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج "جیش الہند" کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تاکہ اصل شناخت سامنے نہ آئے۔ اس حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا۔ جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سکیورٹی خدشات بڑھانا تھا جو کہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی ڈیمانڈ تھی۔ حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے۔ نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کے تحت آخری دہشتگرد ختم ہونے تک آپریشن جاری رہیں گے۔ راولپنڈی کے کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے جمعرات کے روز 7 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 11 نومبر کو اسلام آباد کی جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش دھماکے میں سہولت کاری کی تھی۔ پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ مشتبہ سہولت کاروں کو راولپنڈی کی فوجی کالونی (پیر ودھائی کے علاقے) اور ڈھوک کشمیریاں سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ خیبر پی کے میں بھی ایک کارروائی کی گئی۔ یاد رہے کہ 11 نومبر کو اسلام کچہری کے باہر خودکش حملے میں 12 افراد شہید اور 2 درجن سے زائد زہو گئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کچہری میں خودکش دھماکے کے بعد جمعرات کو فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کو کھول دیا گیا۔ وکلاء اور سائلین کی بڑی تعداد کچہری پہنچ گئی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کچہری میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حملے کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔