ناجائز تعلقات: معاشرتی بگاڑ کی جڑ اور عدالتی تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-03-3
وجیہ احمد صدیقی
عدالت عظمیٰ کے جسٹس علی باقر نجفی نے نور مقدم قتل کیس کے اضافی نوٹ میں ایک ایسی حقیقت کو اُجاگر کیا ہے جو ہمارے معاشرے کی اخلاقی تباہی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا: ’’میں نے بھی دیکھا ہے کہ موجودہ کیس upper society میں پھیلنے والے اس رجحان کا براہ راست نتیجہ ہے جسے ہم ’لِوِنگ رِلِیشن شِپ‘ کہتے ہیں، جس میں معاشرتی مجبوریوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے تاکہ نہ صرف ملک کے قانون بلکہ اسلام شریعہ کے قانون کی بھی خلاف ورزی کی جائے، جو اللہ تعالیٰ کے خلاف براہ راست بغاوت ہے۔ نوجوان نسل کو اس کے خوفناک نتائج نوٹ کرنے چاہیے جیسے موجودہ کیس میں، جو سوشل رِفارمسٹس کے لیے بھی بحث کا موضوع ہے‘‘۔ یہ الفاظ نہ صرف نور مقدم کیس کی روشنی میں ایک عدالتی تنبیہ ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک واضح وارننگ بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں ناجائز تعلقات کو پروموٹ نہیں کیا بلکہ انہیں سخت حرام قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’وَلَا تَقرَبْوا الزِّنَا اِنَّہْ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَائَ سَبِیلًا‘‘ (سورہ الاسراء: 32) یعنی زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بہت بڑی فحاشی اور برا راستہ ہے۔ جسٹس نجفی کا نقطہ نظر بالکل درست ہے کیونکہ آج کل خاص طور پر elite طبقے میں ’لِوِنگ ان‘ یا ناجائز رشتوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو اسلامی تعلیمات، پاکستانی قانون اور معاشرتی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
لیکن جسٹس باقر نجفی کے اس اختلافی نوٹ کے ساتھ ان کے خلاف پروپیگنڈا بھی شروع ہو گیا ہے ٹیلی ویژن پر ایسے لوگ آ رہے ہیں جو اپنے آپ کو ریلیشن شپ کونسلر کہتے ہیں اور ان تعلقات کا انتظام کرتے ہیں پرانے زمانے میں ان انتظام کرنے والوں کو دلال کہا جاتا تھا آج کل ریلیشن شپ کونسلر کہا جاتا ہے، اور ان ناجائز تعلقات کو گویا معمول کی بات قرار دیا جا رہا ہے یہ نہایت خطرناک رجحان ہے جس کا نتیجہ اسی قسم کے قتل و غارت گری کی صورت میں نکلتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ کی شق 497 (زنا) اور حدود آرڈیننس 1979 اسے جرائم قرار دیتے ہیں، مگر جدید دور میں سوشل میڈیا اور ویسٹرن کلچر کی نقل نے اسے ’آزادی‘ کا نام دے دیا ہے۔ نور مقدم کیس اس کی زندہ مثال ہے جہاں 27 سالہ نور کو اس کے ’لِوِنگ پارٹنر‘ ظاہر جعفر نے اسلام آباد کے ایک فلیٹ میں سرقلم کر دیا۔ مختلف شہروں سے دوسرے واقعات جیسے لاہور کا سعدیہ طلعت کیس، کراچی کا عائشہ احمد کیس، اسلام آباد اور ملتان کے قتل کیسز، اور ایف آئی اے کی رپورٹ میں شامل سوشل میڈیا پر ناجائز تعلقات کی تشہیر واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کتنی سرعت سے ہمارے معاشرے کو بگاڑ رہا ہے۔ اس رجحان کے نتائج خوفناک ہیں: خاندان بکھرتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، اور جرائم بڑھتے ہیں۔ عدالتی نوٹس اور قوانین کی سختی کے ساتھ نفاذ ہی اس بگاڑ کو روک سکتے ہیں۔ نوجوانوں اور سماجی اصلاح پسندوں کو چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نکاح کو اہمیت دیں اور اناجائز تعلقات کو روکنے کے لیے کام کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناجائز تعلقات
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔