ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کی درخواست پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
معروف یوٹیوبر سعدالرحمان عرف ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کی درخواست پر پیشرفت سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کی درخواست پر سماعت کی۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ تفتیشی افسر اسلام آباد میں موجود ہیں۔ شعیب ریاض نے اس کیس کی فائل ابھی تک واپس نہیں کی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈکی بھائی کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ کے کلائنٹ نے یوٹیوب کس طرح استعمال کیا جس پر وکیل نے کہا کہ سر مین اکاؤنٹ این سی سی کے پاس ہے یہ ایڈیٹر اکاؤنٹ تھا۔
ڈکی بھائی کے وکیل نے مزید کہا کہ یہ سپرداری کی درخواست ہے جو الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہیں۔ میرے کلائنٹ کے چار کریڈٹ کارڈز اور اماؤنٹ ہمارے حوالے کی جائے۔
این سی سی آئی اے نے ایک بار پھر رپورٹ جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی۔
عدالت نے 15 دسمبر تک این سی سی آئی اے کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سپرداری کی درخواست سی سی آئی اے ڈکی بھائی کے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔