نیپالی گلوکارہ کا پاکستانی سنگر ریشما کو زبردست خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
نیپال سے تعلق رکھنے والے گلوکار مدن گوپال نے پاکستانی گلوکارہ المعروف مٹی کی آواز ریشما کا شہرہ آفاق نغمہ اپنے انداز سے گاکر انہیں شاندار انداز سے خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں جاری ورلڈ کلچر فیسٹیول کے رنگارنگ ماحول میں ایک ایسا لمحہ بھی آیا جب نیپالی گلوکار مدن گوپال نے پاکستان کی لیجنڈری گلوکارہ ریشما کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کا مشہور گیت ’لمبی جدائی‘ گایا۔
نیپالی گلوکار مدن گوپال جو کراچی میں جاری ورلڈ کلچر فیسٹیول میں دوسری بار پرفارم کر رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی محبت نے دوبارہ یہاں پر کھینچ کر لائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں کھنمنڈو سے 15 کلومیٹر دور پہاڑ پر سیر کے لیے گایا تو اس کے چاروں طرف جنگل تھا تیز چلتی ہوائیں ہر طرف سبزہ تھا وہاں مجھے ایسا لگتا آسمان سے میرے پاس ریشما جی کا یہ گانا آیا تب ہی میں نے سوچا کہ یہ گانا پاکستان جا کر پرفارم کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ورلڈ کلچر فیسٹیول سے چند ماہ قبل میرا یہ دل چاہ رہا تھا کہ میں مٹی کی سنگر ریشما جی کو ٹربیوٹ پیش کروں، میں نے ان کے گانے 'لبمی جدائی' میں اپنی کمپوزیشن شامل کرکے ایک میڈلے کی طرح پیش کیا۔
مدن گوپال اپنے میوزکل شو میں نیپالی فوک اور پاکستانی موسیقار عماد رحمان صاحب کا کمپوز کیا نیپالی گانا بھی پیش کیا جو اردو اور نیپالی زبان پر مشتمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیپال میں مجھے میوزیکل اسکالر کہتے ہیں ، جتنا میں نے پڑھا ہے میرے خیال میں دو طرح کے گلوکار ہوتے ایک وہ جو تربیت یافتہ ہوتے ہیں ایک وہ جو مٹی کے سنگر ہوتے ہیں ۔
لفظ ’مٹی کے سنگر‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ اس کا مطلب ہے کہ قدرتی نوٹس پر گانا ، یہ ایسا ہوتا جس میں سنگیت کےگرامر کو نہیں سیکھا جاتا بس دل سے گایا جاتا ہے ۔
لمبی جدائی گانے پر پرفارمنس کے دوران مدن کا ساتھ ابھرتی ہوئی پاکستانی گلوکارہ ماہ رخ نے دیا۔
ماہ رخ کا کہنا تھا کہ ریشما جی ہماری لیجنڈری آرٹسٹ ہیں ان کو گانا ویسے تو ناممکن ہے لیکن میں اپنی طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش کی ساتھ ہی اپنی ثقافت کو پیش کیا۔
گلوکارہ کا مزید کہنا تھا کہ نیپالی گلوکار کے ساتھ پرفارم کرنے کا تجربہ بہت اچھا تھا جس سے مجھے بھی مزہ آیا۔
واضح رہے کہ 1980 کی دہائی میں ایک معروف ہندوستانی فلم ہدایت کار سبھاش گئی نے ریشماں کی آواز میں گانا " لمبی جدائی" کو اپنی فلم " ہیرو" میں شامل کیا جو کہ پاکستان کی طرح ہندوستان میں بھی بہت مشہور و مقبول ہوا اور آج بھی اُسے پسند کیا جاتا ہے۔
اس گانے کے بعد جلد ہی ریشماں کا شمار برصغیر کی صف اول کی گلوکاراؤں میں ہونے لگا اورانہیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی۔ انہوں نے امریکا ،برطانیہ اور ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
موسیقار عماد رحمان کا کہنا تھا کہ مدن نے پاکستان آنے سے پہلے مجھے فون کرکے بتایا تھا کہ وہ ریشما جی کو ٹریبیوٹ دینے جارہے اور میں خود بھی ریشما جی بڑا مداح ہوں تو مدن کا آئیڈیا پسند آیا ۔
ان کا مزید کہناتھا کہ ریشما جی ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں ان کی گائیکی برصغیر کی میں اہمیت رکھتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا مدن گوپال پیش کیا
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔