بینائی سے محروم افراد کے لئے پہلی بار سندھ میں اسکینرز اسٹک تیار
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ میں پہلی بار بینائی سے محروم افراد کے لئے اسکینرزاسٹک تیار کرلی گئی۔
میڈیاذرائع کے مطابق سندھ میں 60 لاکھ سے زائد خصوصی بچے اور دیگر ذہنی معذور افراد ہیں۔ ذہنی و جسمانی معذور افراد اور آٹزم سمیت خصوصی بچوں کو بااختیار بنانے کے لیے جدید طبی ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈوائسسز بھی تیار کی جارہی ہیں۔
بینائی سے محروم افراد کی رہنمائی کے لیے سینسر والی اسکینر اسٹک تیار کرلی گئی جبکہ دیگر ذہنی و جسمانی معذوری اور مفلوج سمیت آٹزم اسپیشل بچوں کی زندگی کو کارآمد بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف ڈیوائسسز بھی تیار کی جارہی ہیں۔ یہ اسکینر اسٹک اور مختلف ڈیوائسسز این ای ڈی یونیورسٹی کے بائیو میڈیکل ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ تیار کررہا ہے۔
اس سلسلے میں ڈیپارٹمنٹ آف ایمپاورمنٹ آف پرسنز ودڈس ایبلٹی حکومت سندھ اور این ای ڈی یونیورسٹی کے درمیان معائدہ بھی طے پایا گیا ہے جس کے تحت سندھ میں پہلی بار اس منصوبے کو پائلٹ پروچیکٹ کے طور پر رواں ماہ میں متعارف کرایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ڈیپارٹمنٹ آف ایمپاورمنٹ آف پرسنز ودڈس ایبلٹی حکومت سندھ بینائی سے محروم افراد کو اسکینر اسٹک بلامعاوضہ فراہم کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بینائی سے محروم افراد
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔