چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ذمہ دار درآمد کنندگان ‘ حکومت‘ ہم نہیں: شوگر ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
لاہور (کامرس رپورٹر + نیوز رپورٹر) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت کو اوائل اکتوبر سے ہی مختلف خطوط اور پریس ریلیزز کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا تھا اور انڈسٹری نے مخالفت کی تھی کہ غیرضروری درآمدی چینی مت منگوائی جائے اور FBR کے پورٹلز کو کھلا رکھا جائے تاکہ مارکیٹ میں چینی کی سپلائی متواتر رہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت کو پہلا انتباہی خط 4 اکتوبر کو لکھا گیا جبکہ دوسرے اور تیسرے خطوط بالترتیب 9 اکتوبر اور 15 اکتوبر لکھے گئے۔ مگر غیر معیاری درآمدی چینی کو بیچنے کی خاطر پورٹلز کو بند کیا گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سے چینی کی کمی اور قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئیں جس کی ذمہ دار اور فائدہ وصول کنندہ شوگر انڈسٹری نہ ہے۔ دوسری طرف ایسوسی ایشن کو مختلف ضلعوں میں قائم شوگر ملوں سے یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں کی ضلعی انتظامیہ ملوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ صرف حکومت کے نامزد کردہ ڈیلرز کو ہی چینی فروخت کریں اور براہ راست مارکیٹ میں نہ فروخت کریں۔ ان اقدامات کی بدولت مارکیٹ میں مزید چینی کی سپلائی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں چینی کی مقررہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو احکامات جاری کر دیئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے سول سیکرٹریٹ میں منعقد ویڈیو لنک اجلاس کے دوران تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کیں اور کہا چینی کی مقرر کردہ ایکس مل قیمت 171روپے اور ریٹیل قیمت 179روپے فی کلوگرا م پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ چینی کی مقررہ سے زائد نرخوں پر فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں چینی کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔