سندھ حکومت کا خواتین کیلیے پنک اسکوٹیز پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ پنک اسکوٹیز پروگرام کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو محفوظ اور باوقار انداز میں آمدورفت کی سہولت حاصل ہو سکے۔
انہوں نے خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں، تربیتی کورسز میں حصہ لیں اور پروگرام کے دوسرے مرحلے میں بھرپور شرکت کریں۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خواتین کے لیے مفت ڈرائیونگ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ لائسنس کا اجرا بھی بلا معاوضہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اسکوٹیز فراہم کرنے کا مقصد انہیں روزمرہ کے سفری مسائل سے نجات دلانا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کو آسانی اور اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنک اسکوٹیز کے پہلے مرحلے کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی ملی۔ درجنوں خواتین نے نہ صرف ڈرائیونگ سیکھی بلکہ لائسنس حاصل کرکے اپنی روزمرہ مصروفیات میں اس سہولت کو اپنا لیا۔ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ خواتین اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور اپنے سفر کو محفوظ اور باعزت بنائیں۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ پیپلز بس سروس، پنک بس سروس، الیکٹرک بس سروس اور اب پنک اسکوٹیز جیسے منصوبے حکومت سندھ کے شہریوں کے لیے کم لاگت، محفوظ اور باوقار سفری سہولتوں کا تسلسل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر مضبوط بنانا صرف ایک حکومتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی اور انسانی فلسفے کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا پیپلز پارٹی کے نظریاتی سفر کا مرکزی ستون ہے اور یہ مشن شہید بینظیر بھٹو کے وژن کا عملی تسلسل ہے، جنہوں نے ہمیشہ خواتین کی ترقی اور مساوی مواقع کے لیے آواز بلند کی۔ سندھ حکومت اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے خواتین کے لیے ایک محفوظ، آزاد اور خودمختار سفر کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پنک اسکوٹیز خواتین کو انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں