اجتماع عام ظالم نظام پر کاری ضرب ہوگا، آسیہ جمیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-08-13
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ناظمہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین ضلع کیماڑی آسیہ جمیل نے ضلع کیماڑی میں اجتماع عام کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماع عام اس ظالم نظام پر کاری ضرب ہو گا، اجتماع عام پاکستان کا سلوگن’’ بدل دو نظام‘‘ پورے ملک میں حقیقی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہوگا ،اس وقت جب وطن عزیز ہر طرف سے سنگین حالت سے دوچار ہے یہ اجتماع عوام کے لیے مسائل کا حل اور امید کی کرن ثابت ہوگا۔ انہوں نے کارکنان کو اپنی دعوتی سرگرمیاں تیز تر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عام خواتین اور یوتھ تک رسائی حاصل کر کے انہیں اس عظیم الشان اجتماع میں شرکت پر آمادہ کریں کیونکہ اس اجتماع میں خواتین کے مسائل اور ان کے لیے مختلف میدانوں میں آگے بڑھنے کے حوالے سے جماعت اسلامی کا کردار مثالی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔