کراچی میں 14 روز کے دوران 48 ہزار ای چالان، معافی کیلیے 4.5 ہزار شہری پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کراچی پولیس نے ٹریک اینڈ ٹریک سسٹم کے تحت 14 روز کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر شہریوں کو 48 ہزار 211 ای چالان جاری کیے جبکہ ساڑھے چار ہزار شہریوں نے معافی کیلیے رجوع کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ٹریفک پولیس کراچی نے 14 روزکے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 48211 الیکٹرانک چالان جاری کیے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 31555 چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجاری کیے گئے جبکہ ہیلمٹ نہ پہننے پر 8431، اووراسپیڈنگ پر2304 چالان جاری کیے گئے۔
اعداد وشمار کے مطابق 27 اکبوترسے 9 نومبرتک 14 روزکے دوران سگنل کی خلاف ورزی پر 2009، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال پر1263 چالان جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ کالے شیشوں پر 670، فینسی نمبر پلیٹس پر585،رانگ وے پر556،مسافروں کوچھت پربیٹھانے پر 368 چالان جاری کیے گئے۔
محکمہ ٹریفک پولیس کے مطابق نو پارکنک پر 250، اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر 233، بے جا لوڈ اور اوورلوڈنگ پر 132 چالان جاری کیے گئے، لین لائن کے استعمال پر 65، رانگ وے ان ون وے اسٹریٹ 58 ای چالان جاری کئے گئے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ٹیکس کی عدم ادائیگی پرتاحال ایک بھی ای چالان جاری نہیں کیا گیا۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق گزشتہ 14 روزکے دوران پہلا ای چالان جاری ہونے پر 4800 شہریوں نے ٹریفک پولیس کے سہولت گھروں کا رخ کیا جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ شہریوں کے ای چالان معاف کردیئے گئے جبکہ بقیہ ای چالان شہریوں کی جانب سے چیلنج کیے جانے پرخصوصی کمیٹی کوارسال کر دیئے گئے،مذکورہ خصوصی کمیٹی ان ای چالان سے متعلق فیصلہ کریگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چالان جاری کیے گئے ٹریفک پولیس کے چالان جاری کے دوران کے مطابق کی خلاف
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔