ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جو باہمی وابستگی اور عالمی چیلنجوں سے عبارت ہے۔ جنگ و تنازع، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات، اور ترقی و سلامتی میں بڑھتے ہوئے فاصلے، یہ سب ہماری دنیا سے اجتماعی، مربوط اور جرات مندانہ اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایسے میں اقوام کی وہ آوازیں جو پارلیمانوں کے ذریعے اْبھر کر سامنے آتی ہیں، پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ حکومتیں اکیلی ان پیچیدہ بین الاقوامی مسائل کا حل نہیں نکال سکتیں۔ انھیں دنیا کی پارلیمانوں کے تجربے، عوامی نمایندگی اور اجتماعی دانش کی ضرورت ہے۔

اسی احساسِ ضرورت نے بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کو جنم دیا۔ رواں سال اپریل میں، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی بصیرت افروز قیادت میں، دنیا کے پینتالیس سے زائد ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز ایک تاریخی فورم پر اکٹھے ہوئے۔

یہ فورم اس یقین پر قائم کیا گیا کہ جمہوریت کے ستون، پارلیمان، ہی وہ ادارے ہیں جو دنیا کو زیادہ منصفانہ، پْرامن اور مستحکم عالمی نظام کی سمت لے جا سکتے ہیں۔

بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس تین بنیادی اصولوں پر استوار ہے:

1 باہمی انحصار ۔۔ یہ اعتراف کہ دنیا کے تمام ممالک کی تقدیریں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

2 مشترکہ خوشحالی ، علم، وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دینا۔

3 انسانی وقار اور ثقافتی احترام ، مکالمے، برداشت اور عمل کے ذریعے عالمی اقدار کو مستحکم بنانا۔

یہ اصول محض نعرے نہیں بلکہ عمل کے رہنما خطوط ہیں جو ISC کے ایجنڈے کی بنیاد ہیں:

پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے امن و سلامتی کا فروغ

پائیدار ترقی اور ماحولیاتی لچک کی حمایت

شفافیت اور جوابدہی کے ذریعے بہتر طرزِ حکمرانی کا قیام

اور باہمی اعتماد پر مبنی بین الاقوامی اشتراک کا فروغ۔

اس سال نومبر میں، پاکستان سینیٹ فخر کے ساتھ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے اولین اجلاس کی میزبانی اسلام آباد میں کر رہا ہے۔اس اجلاس کا مرکزی موضوع ہے:’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘۔یہ تاریخی اجتماع نہ صرف پارلیمانی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ پاکستان کے اس دیرینہ عزم کی تجدید بھی کرے گا کہ وہ ایک امن دوست، تعمیری اور متوازن عالمی کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔یہ کانفرنس سیول ڈیکلریشن برائے امن و خوشحالی کی بنیاد پر آگے بڑھے گی، جو رواں سال جنوبی کوریا میں دنیا کی پارلیما نوں نے مشترکہ طور پر منظور کیا تھا۔

اسلام آباد میں اس کے اصولوں کو عملی حکمتِ عملی میں ڈھالنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس اجلاس کا نتیجہ اسلام آباد ڈیکلریشن کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ایک ایسا رہنما دستاویز جو مستقبل میں عالمی پارلیمانی تعاون، انصاف، اور اخلاقی حکمرانی کی سمت متعین کرے گا۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں ISC پاکستان کے اس وژن کی عکاس ہے جس میں پارلیمانی سفارتکاری کو خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔بطور سابق وزیراعظم پاکستان اور قومی اسمبلی کے اسپیکر، گیلانی صاحب نے ہمیشہ اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ مؤثر طرزِ حکمرانی اور سفارتکاری کا بہترین امتزاج پارلیمانی سطح پر ہی ممکن ہے۔

ان کی رہنمائی میں ISC ایک ایسا پْل بن چکا ہے جو اقوام و طبقات کو جوڑتا، باہمی اعتماد کو مضبوط کرتا، اور عوام پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیتا ہے۔

پاکستان کا پیغامِ امن

آئی ایس سی کی میزبانی پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی اعلان ہے کہ پاکستان مکالمے پر یقین رکھتا ہے، اختلاف کی جگہ اعتماد قائم کرنے کا خواہاں ہے، اور پارلیمانی ڈپلومیسی کے ذریعے تعاون و سمجھ بوجھ کے نئے دروازے کھول رہا ہے۔

یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ملک کی سوفٹ امیج کو بھی اجاگر کرتا ہے ایک ایسا پاکستان جو خطوں اور نظریات کے درمیان رابطہ پیدا کرتا ہے اور استحکام و کھلے پن کے ذریعے سرمایہ کاری، اختراع اور ترقی کے لیے نئے امکانات فراہم کرتا ہے۔

یہ کانفرنس دنیا کے پارلیمانوں کے اْس بنیادی کردار کی تجدید بھی کرتی ہے جو وہ امن اور ترقی کے فروغ میں ادا کر سکتی ہیں۔جب عوامی نمایندے ایک دوسرے سے براہِ راست مکالمہ کرتے ہیں تو وہ عوامی اعتماد اور اخلاقی جواز کے ساتھ کرتے ہیں۔بطور ISC سفیر، میں اس سفر کا حصہ بن کر فخر محسوس کرتی ہوں۔ہم نے اپنی دوستی کے گروپس کو فعال کیا، براعظمی سطح پر پارلیمانی تعلقات کو وسعت دی، اور پاکستان کو ایک امن کا پْل بنانے والی ریاست کے طور پر اجاگر کیا۔

آیندہ کانفرنس ایک پیغام ہے سمجھنے، جڑنے اور مل کر آگے بڑھنے کا۔یہ تمام اقوام کے لیے دعوت ہے کہ وہ اپنی پارلیمانوں کے ذریعے متحد ہوں اور اس عہد کی تجدید کریں کہ ہمارا مشترکہ عزم امن، سلامتی اور ترقی کے لیے، ہر اْس طاقت سے زیادہ مضبوط ہے جو ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی پْرعزم قیادت، پاکستان کی حکومت اور عالمی شراکت داروں کے تعاون سے، مجھے یقین ہے کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) ایک امید کی کرن بنے گی ۔ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں مکالمہ عمل میں ڈھلے گا، اور جہاں دنیا کے عوام کی آواز، ان کی پارلیمانوں کے ذریعے، ایک منصفانہ، محفوظ اور خوشحال دنیا کی بنیاد رکھے گی۔

( مضمون نگار: سفیر بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC)ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس پارلیمانوں کے اور ترقی کے ایک ایسا کے ذریعے دنیا کے کے لیے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا