کراچی انٹرنیشنل بک اینڈ ایڈٹیک فیئر ایکسپو میں ہو گی، علی کے چشتی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-02-7
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں تاریخ کی بے مثال و منفرد تین روزہ کراچی انٹرنیشنل بک اینڈ ایڈٹیک فیئر 2026 کراچی ایکسپو سینٹر میں مئی 2026 میں ہو گی۔ اس تاریخ ساز ایونٹ میں ملک بھر سے 50 اساتذہ اور 2 لاکھ طلباء شرکت کرینگے۔ یہ اعلان سی ای او ایم ٹیک سسٹمز علی کے چشتی، اور بٹ ایڈورٹائزنگ اینڈ ایونٹ منیجمنٹ کے اویس صدیقی، اردو اکیڈمی سندھ کے ڈاکٹر سعد بن عزیز اور سی او او اوربٹ ایڈورٹائزنگ اینڈ ایونٹ منیجمنٹ ایس ایم سجاد نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس بریفنگ میں کیا۔ ایونٹ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی 2026میں تین روزہ کراچی انٹرنیشنل بک اینڈ ایڈٹیک فیئر 2026 محض ایک نمائش نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس کا مقصد خواندگی میں اضافہ، تحقیق و تخلیق کی حوصلہ افزائی، پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا اور دنیا بھر کے علمی نیٹ ورکس سے ملک کو جوڑنا ہے۔ علی کے چشتی، اویس صدیقی، ڈاکٹر سعد بن عزیز، ایس ایم سجاد اور دیگر نے میڈیا کو مزید بتایا کہ مئی 2026 میں کراچی ایکسپو سینٹر میں سجنے والا تین روزہ کراچی انٹر نیشنل بک اینڈ ایڈٹیک فیئر 2026 ایونٹ کتاب، تعلیم اور ٹیکنالوجی کا ہمہ جہت میلہ ہے۔ یہ ایونٹ طلبہ، اساتذہ، منصفین، پبلیشرز، ماہرین ِ تعلیم، ایڈٹیک اداروں اور جدت پسندوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔ ایونٹ میں 250 سے زائد بک اور ایڈ ٹیک اسٹالز ہونگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔