کراچی: شالیمار ایکسپریس‘کینٹ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن‘ مسافر خانوں‘لاؤنجز کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-08-23
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن اور جدید سہولیات کی فراہمی ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی، وفاقی حکومت، سندھ حکومت کے تعاون سے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی جدیدیت اور صوبے سمیت ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں کراچی کے دورے کے دوران نئی شالیمار ایکسپریس اور کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن کے اپ گریڈ شدہ ویٹنگ ایریاز اور لائونجز کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) منصوبہ اکیلیے مکمل نہیں کرسکتی، وفاقی حکومت تعاون کرے۔ تفصیلات کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے منصب سنبھالنے کے بعد ملک کے ریلوے نظام کی بہتری کے لیے بھرپور محنت کی، لاہور ریلوے سٹیشن کی جدیدیت کے بعد کراچی کینٹ سٹیشن کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے تعاون سے صوبے کے تمام ریلوے اسٹیشن جدید خطوط پر استوار کیے جائیں گے تا کہ مسافروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے کراچی کو ملک کا معاشی مرکز اور ’’پاکستان کا دل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ ریلوے نیٹ ورک کی بہتری کے ذریعے قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ریلوے نیٹ ورک کو وسطی ایشیا تک توسیع دے گی اورازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے لائن منصوبہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اسلام آباد-استنبول ریل روٹ کی بحالی پر بھی زور دیا۔ وزیراعظمنے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرسودہ ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ علاوہ ازیں تقریب سے خطاب میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) منصوبے کی تکمیل کیلیے وفاقی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے سی آر جیسا بڑا منصوبہ سندھ حکومت اکیلے مکمل نہیں کر سکتی، شہر کی بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ ضروریات کو پورا کرنے کیلیے کے سی آر جیسے جامع ماس ٹرانزٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت وفاقی حکام اور ریلوے کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ منصوبے کی کامیاب تکمیل ممکن ہو سکے۔ علاوہ ازیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ،سعید غنی اور ذوالفقار علی شاہ نے کینٹ اسٹیشن کا دورہ کیا، وفاقی سیکرٹری ریلوے نے صوبائی وزراء کو کینٹ اسٹیشن اور شالیمار ایکسپریس کا دورہ کرایا۔ وزراء نے سندھ حکومت کے تعاون سے کینٹ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن اور شالیمار ایکسپریس میں جدید سہولیات کی فراہمی کی تعریف کی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کینٹ اسٹیشن پر جدید سہولیات کی فراہمی سے مسافروں کی مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شالیمار ایکسپریس جدید سہولیات کینٹ اسٹیشن سندھ حکومت نے کہا کہ انہوں نے کے سی ا ر
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔