Express News:
2026-06-03@05:47:17 GMT

حیرانی

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

آج ہم ایک ایسی شخصیت کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جس کے گرد دشنام طرازی اور پراپگینڈے کا اتنا دبیز اندھیرا پھیلایا گیا ہے کہ وہ ابھی تک چھٹ نہیں پایا حالانکہ اب تو باقاعدہ انگریزی حکومت کی سرکاری دستاویزات سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ ایک باقاعدہ نیٹ ورک تھا جس نے اس شخصیت کے خلاف مسلسل زہر اگلا ہے، جس میں سابقہ این ڈبلیو ایف پی یعنی شمال مغربی سرحدی صوبہ مختصراً صوبہ سرحد میں اس وقت کے بہت سارے ملا،پیر صاحبان اور سجادہ نشین سرکاری پیرول پر سرگرم تھے۔

ان سب کا کام عوام میں اس شخصیت کو بیک وقت روس ،جرمنی اور ہندوستان کا ایجنٹ مشہور کرنا تھا۔ ولی خان مرحوم نے بڑی کوشش سے لندن جاکر گورنر جارج کنگھم کے دفتر سے دستاویزات برآمد کر کے اپنی کتاب ’’حقائق حقائق ہیں‘‘ میں درج کیا ہے، ان دستاویزات میں نام بنام ، ان ملاوں اور سجادہ نشینوں کو دی جانے والی رقومات کا اندراج ہے جو ہندوستان کی انگریز سرکاری انھیں ادا کرتی تھی ، ان میں پندرہ روپے سے لے کر پچاس روپے تک کے حضرات کے نام ہیں ، سب سے بڑی پیمنٹ دوہزار روپے تھی، جن محترم کو یہ رقم ملتی تھی، ان کو اس لیے ملتی تھی کہ وہ ان لوگوں میں تقسیم کریں جو ان کے حلقہ ادارت میں شامل ہیں، ان بزرگوار کا ایک باچا خان کے بارے میں طنزیہ قول بڑا مشہور ہے۔

بہرحال میں یہاں ایک اور شخصیت کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا نام یوسف لودھی ہے۔ وہ ایک ہمہ جہت آدمی تھا۔ پشاور سے ایک انگریزی ہفتہ وار پرچہ نکلتا تھا، وہ بڑا اچھا کارٹونسٹ بھی تھا ،کارٹونوں کی ایک کتاب بھی ان کی چھپی تھی لیکن ان کی ایک اور کتاب بڑی مقبول ہوئی تھی جو انھوں نے ’’کلیلہ دمنہ‘‘یا جنگل کی طرز پر لکھی تھی۔ اس کتاب میں ملکی سیاست کو جنگل اور جنگلی جانوروں کے استعارے میں بیان کیا گیا تھا۔

ولی خان کو اس کتاب کا ہیرو یعنی شیر بیان کیا گیا تھا۔اس زمانے وہ پشاور صدر میں مقیم تھے اور میرا بھی قلندرمومند کی وساطت سے تعارف ہوگیا۔پھر ہم دونوں میں گاڑھی چھیننے لگی۔ پھر وہ پشاور چھوڑ کر چلے گئے، شاید اسلام آباد یا کراچی یا کہیں اور۔کیونکہ ان دنوں میں بھی دربدری کا شکار تھا، سرکاری عتاب کا شکار تھا، اس لیے اپنے گاؤں ہی میں کاشت و برداشت کررہا تھا۔خیر تو جب باچاخان افغانستان سے لوٹ کر آگئے تو یوسف لودھی نے اپنے ہفت روزہ کے لیے ان کا انٹرویو لینا چاہا۔میں، قلندرمومند اور یوسف لودھی ان کے گاؤں پہنچے تو باچاخان ایک درخت کے سائے میں چارپائی پر دراز تھے۔

علیک سلیک کے بعد انٹرویو شروع ہوا، باقی سوال وجواب تو حسب معمول تھے لیکن ایک مرحلے پر ہم بھی چونک گئے، جب یوسف لودھی نے یہ سوال کیا کہ ’’آپ نے یہ خدائی خدمت گار کیسے بنائے۔‘‘ باچاخان نے بھی کوئی خاص جواب نہیں دیا، صرف اتنا کہا کہ میں کون ہوتا ہوں، بنانے والا، بنائے تو خدا نے ہیں، میں نے تو صرف سکھایا ہے‘‘۔ واپسی پر ہم نے لودھی صاحب سے پوچھا، یہ کیسا احمقانہ سوال تھا۔ وہ بولے، احمقانہ نہیں بلکہ سب سے زیادہ دانشمندانہ سوال تو یہی تھا کیونکہ میں نے دنیا کی تاریخ پڑھی ہے اور انسانی تاریخ میں کہیں بھی ایسے لوگوں کی مثال نہیں ملتی جو جان دیتے ہوں، لیتے نہیں ہوں۔

جہاں کہیں بھی خودکش فدائی پیدا ہوتے ہیں مثلاً حسن بن صباح کے فدائی بھی جان دیتے تھے لیکن پہلے جانیں لیتے تھے بلکہ جانیں لیتے ہوئے جان دیتے تھے۔ یہیں پر میں نے حسن بن صباح کے بارے میں تفصیل پوچھی کیونکہ ناولوں اور افسانوں میں شیخ الجبال حسن بن صباح ، اس کی جنت اور فدایوں کے بارے عجیب وغریب افسانے پڑھے تھے۔

بولے، وہ سب افسانے ہیں، منگولوں کے زمانے میں جب اس کے قلعے کو فتح کیا گیا تو پتہ چلا کہ فدائیوں کو بھنگ پلائی جاتی تھی ، ان فدائیوں کو بھنگ کی لت لگائی جاتی تھی اور جب وہ عادی ہوجاتے تھے تو نشہ دینا بند کردیا جاتا اور کہا جاتا تھا کہ فلاں کو مار کر آو تو ’’جنت‘‘ دوبارہ ملے گی اور فدائی ناممکن کو ممکن کرنے کے لیے چل پڑتے یا ٹارگٹ کو مارتے یا خود مارے جاتے۔ بیچارے فدائی یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب کچھ اس مشروب کا کیا دھرا ہے جو انھیں پلایا جاتا ہے جس کا راز شیخ الجبال کو معلوم تھا۔

بہرحال جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، یوسف لودھی نے کہا، ہمارے خطے میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس نے انسانوں کی اتنی کایا کلب کردی ہو، وہ بھی ایسے خطے میں جہاں تشدد ہی تھا، بات بات پر قتل وقتال روزمرہ کا معمول تھا۔باچاخان کے یہ خدائی خدمت گار نرالے لوگ تھے، جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

وہ جب مظاہرے یا دھرنے دیا کرتے تھے اور انگریزی فورسز چڑھ آتی تھیِ تو خدائی خدمت گاراپنی کمر سے چند گز کی رسی کھول کر اپنے ہاتھ باندھ کر لاٹھی چارج، گولیوں اور ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوجاتے، تشدد سہتے رہتے،گھائل ہوتے رہتے، مرتے رہتے لیکن جواب میں کسی کو تھپڑ تک نہ مارتے ۔میں حیران ہوں کہ اس شخص میں ایسی کیا کشش ہے؟ یوسف لودھی بعد میں بھی اکثر کہتا رہتا تھا۔ اس شخص میں ایسی کیا کشش ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یوسف لودھی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی