Express News:
2026-07-24@10:15:12 GMT

حیرانی

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

آج ہم ایک ایسی شخصیت کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جس کے گرد دشنام طرازی اور پراپگینڈے کا اتنا دبیز اندھیرا پھیلایا گیا ہے کہ وہ ابھی تک چھٹ نہیں پایا حالانکہ اب تو باقاعدہ انگریزی حکومت کی سرکاری دستاویزات سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ ایک باقاعدہ نیٹ ورک تھا جس نے اس شخصیت کے خلاف مسلسل زہر اگلا ہے، جس میں سابقہ این ڈبلیو ایف پی یعنی شمال مغربی سرحدی صوبہ مختصراً صوبہ سرحد میں اس وقت کے بہت سارے ملا،پیر صاحبان اور سجادہ نشین سرکاری پیرول پر سرگرم تھے۔

ان سب کا کام عوام میں اس شخصیت کو بیک وقت روس ،جرمنی اور ہندوستان کا ایجنٹ مشہور کرنا تھا۔ ولی خان مرحوم نے بڑی کوشش سے لندن جاکر گورنر جارج کنگھم کے دفتر سے دستاویزات برآمد کر کے اپنی کتاب ’’حقائق حقائق ہیں‘‘ میں درج کیا ہے، ان دستاویزات میں نام بنام ، ان ملاوں اور سجادہ نشینوں کو دی جانے والی رقومات کا اندراج ہے جو ہندوستان کی انگریز سرکاری انھیں ادا کرتی تھی ، ان میں پندرہ روپے سے لے کر پچاس روپے تک کے حضرات کے نام ہیں ، سب سے بڑی پیمنٹ دوہزار روپے تھی، جن محترم کو یہ رقم ملتی تھی، ان کو اس لیے ملتی تھی کہ وہ ان لوگوں میں تقسیم کریں جو ان کے حلقہ ادارت میں شامل ہیں، ان بزرگوار کا ایک باچا خان کے بارے میں طنزیہ قول بڑا مشہور ہے۔

بہرحال میں یہاں ایک اور شخصیت کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا نام یوسف لودھی ہے۔ وہ ایک ہمہ جہت آدمی تھا۔ پشاور سے ایک انگریزی ہفتہ وار پرچہ نکلتا تھا، وہ بڑا اچھا کارٹونسٹ بھی تھا ،کارٹونوں کی ایک کتاب بھی ان کی چھپی تھی لیکن ان کی ایک اور کتاب بڑی مقبول ہوئی تھی جو انھوں نے ’’کلیلہ دمنہ‘‘یا جنگل کی طرز پر لکھی تھی۔ اس کتاب میں ملکی سیاست کو جنگل اور جنگلی جانوروں کے استعارے میں بیان کیا گیا تھا۔

ولی خان کو اس کتاب کا ہیرو یعنی شیر بیان کیا گیا تھا۔اس زمانے وہ پشاور صدر میں مقیم تھے اور میرا بھی قلندرمومند کی وساطت سے تعارف ہوگیا۔پھر ہم دونوں میں گاڑھی چھیننے لگی۔ پھر وہ پشاور چھوڑ کر چلے گئے، شاید اسلام آباد یا کراچی یا کہیں اور۔کیونکہ ان دنوں میں بھی دربدری کا شکار تھا، سرکاری عتاب کا شکار تھا، اس لیے اپنے گاؤں ہی میں کاشت و برداشت کررہا تھا۔خیر تو جب باچاخان افغانستان سے لوٹ کر آگئے تو یوسف لودھی نے اپنے ہفت روزہ کے لیے ان کا انٹرویو لینا چاہا۔میں، قلندرمومند اور یوسف لودھی ان کے گاؤں پہنچے تو باچاخان ایک درخت کے سائے میں چارپائی پر دراز تھے۔

علیک سلیک کے بعد انٹرویو شروع ہوا، باقی سوال وجواب تو حسب معمول تھے لیکن ایک مرحلے پر ہم بھی چونک گئے، جب یوسف لودھی نے یہ سوال کیا کہ ’’آپ نے یہ خدائی خدمت گار کیسے بنائے۔‘‘ باچاخان نے بھی کوئی خاص جواب نہیں دیا، صرف اتنا کہا کہ میں کون ہوتا ہوں، بنانے والا، بنائے تو خدا نے ہیں، میں نے تو صرف سکھایا ہے‘‘۔ واپسی پر ہم نے لودھی صاحب سے پوچھا، یہ کیسا احمقانہ سوال تھا۔ وہ بولے، احمقانہ نہیں بلکہ سب سے زیادہ دانشمندانہ سوال تو یہی تھا کیونکہ میں نے دنیا کی تاریخ پڑھی ہے اور انسانی تاریخ میں کہیں بھی ایسے لوگوں کی مثال نہیں ملتی جو جان دیتے ہوں، لیتے نہیں ہوں۔

جہاں کہیں بھی خودکش فدائی پیدا ہوتے ہیں مثلاً حسن بن صباح کے فدائی بھی جان دیتے تھے لیکن پہلے جانیں لیتے تھے بلکہ جانیں لیتے ہوئے جان دیتے تھے۔ یہیں پر میں نے حسن بن صباح کے بارے میں تفصیل پوچھی کیونکہ ناولوں اور افسانوں میں شیخ الجبال حسن بن صباح ، اس کی جنت اور فدایوں کے بارے عجیب وغریب افسانے پڑھے تھے۔

بولے، وہ سب افسانے ہیں، منگولوں کے زمانے میں جب اس کے قلعے کو فتح کیا گیا تو پتہ چلا کہ فدائیوں کو بھنگ پلائی جاتی تھی ، ان فدائیوں کو بھنگ کی لت لگائی جاتی تھی اور جب وہ عادی ہوجاتے تھے تو نشہ دینا بند کردیا جاتا اور کہا جاتا تھا کہ فلاں کو مار کر آو تو ’’جنت‘‘ دوبارہ ملے گی اور فدائی ناممکن کو ممکن کرنے کے لیے چل پڑتے یا ٹارگٹ کو مارتے یا خود مارے جاتے۔ بیچارے فدائی یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب کچھ اس مشروب کا کیا دھرا ہے جو انھیں پلایا جاتا ہے جس کا راز شیخ الجبال کو معلوم تھا۔

بہرحال جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، یوسف لودھی نے کہا، ہمارے خطے میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس نے انسانوں کی اتنی کایا کلب کردی ہو، وہ بھی ایسے خطے میں جہاں تشدد ہی تھا، بات بات پر قتل وقتال روزمرہ کا معمول تھا۔باچاخان کے یہ خدائی خدمت گار نرالے لوگ تھے، جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

وہ جب مظاہرے یا دھرنے دیا کرتے تھے اور انگریزی فورسز چڑھ آتی تھیِ تو خدائی خدمت گاراپنی کمر سے چند گز کی رسی کھول کر اپنے ہاتھ باندھ کر لاٹھی چارج، گولیوں اور ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوجاتے، تشدد سہتے رہتے،گھائل ہوتے رہتے، مرتے رہتے لیکن جواب میں کسی کو تھپڑ تک نہ مارتے ۔میں حیران ہوں کہ اس شخص میں ایسی کیا کشش ہے؟ یوسف لودھی بعد میں بھی اکثر کہتا رہتا تھا۔ اس شخص میں ایسی کیا کشش ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یوسف لودھی

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف