عوام کی حکومت، خواب یا حقیقت
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
انسانی تاریخ اقتدارکی ایک طویل داستان ہے۔ کبھی ایک شخص تخت پر بیٹھ کر خود کو خدا کا سایہ کہلاتا تھا، کبھی بادشاہت نے عوام کے خون سے اپنے محل تعمیرکیے۔ کبھی پادریوں نے مذہب کے نام پر حکومت کی تو کبھی جرنیلوں نے بندوق کے زور پر۔ کبھی جاگیرداروں کے دربار لگے تو کبھی سرمایہ داروں کے بورڈ روموں میں فیصلے ہوئے۔ مگر ان سب میں جو ایک خواب ہمیشہ زندہ رہا، وہ تھا عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے۔
تاریخ کے آغاز میں انسان نے جبر کے مقابلے میں انصاف کی تلاش کی۔ قبائلی نظاموں میں مشورہ ہوتا تھا مگر طاقت پھر بھی چند ہاتھوں میں مرتکز رہتی۔ بادشاہت نے ہزاروں سال تک انسان کو رعایا بنا کر رکھا۔ پھر یورپ میں بادشاہت کے خلاف بغاوتیں ہوئیں۔ انقلابِ فرانس نے نعرہ لگایا، مساوات ،آزادی، بھائی چارہ۔ روس کے انقلاب نے مزدور اور کسان کو بتایا کہ تخت الٹ بھی سکتا ہے۔ انقلابات نے زمین ہلا دی مگر سوال باقی رہا، اقتدار آخرکارکس کے ہاتھ میں ہے؟
آج ہم کہتے ہیں، دنیا میں جمہوریت ہے، مگر یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں ووٹ عوام کا ہوتا ہے اور حکومت سرمایہ داروں کی بنتی ہے، یہ کیسی آزادی ہے، جہاں اخبار چھپتا تو ہے مگر سچ بولنے والے صحافی جیل جاتے ہیں ، یہ کیسی پارلیمان ہے جہاں مزدوروں کے لیے کوئی آواز نہیں مگر ایک سرمایہ دارکی پہنچ ہر وزیر اور مشیر تک ہے اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر یہ عوام کی نہیں سرمایہ کی جمہوریت ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ دنیا نے بہت سی حکومتیں دیکھی ہیں، بادشاہت، آمریت، مذہبی حکومت، فوجی حکومت اور اب سرمایہ دارانہ جمہوریت۔ ہر نظام نے اپنے دعوے کیے، اپنے نعرے لگائے مگر اکثریت کے ہاتھ ہمیشہ خالی رہے۔ وہ اکثریت جو دن رات کام کرتی ہے، جو زمین جوتتی ہے ،جوکارخانے میں پسینہ بہاتی ہے، وہی محروم رہی۔ اقتدار کا جھوٹا تاج ہمیشہ اقلیت کے سر پر سجا رہا۔لیکن ایک تصور ایسا بھی ہے جس نے صدیوں سے انسان کے دل میں امید کی شمع جلائی ہوئی ہے، عوامی جمہوریت یعنی وہ نظام جہاں فیصلے بند دروازوں کے پیچھے نہیں، عوامی اجتماع میں ہوتے ہیں۔ جہاں اقتدار 2 فیصد کے پاس نہیں بلکہ 98 فیصد کے ہاتھ میں ہو۔ جہاں حکومت محلات میں نہیں بلکہ محلوں میں بیٹھ کر عوام کے دکھ سنتی ہو۔
جہاں تعلیم، صحت روزگار اور انصاف کسی کا عطیہ نہیں بلکہ بنیادی حق ہو۔یہی وہ جمہوریت ہے جسے ہم عوام کی جمہوریت یا پیپلز ڈیموکریسی کہتے ہیں۔ یہ وہ خواب ہے جو روس، چین ،کیوبا، ویتنام اور دیگر ممالک میں کبھی کبھی حقیقت کے قریب پہنچا۔ مگر سرمایہ داری کے عالمی جال نے ان تجربات کو بھی کمزورکرنے کی کوشش کی۔ جب عوام اپنے حق کے لیے اٹھتے ہیں تو ان پر پابندیاں لگتی ہیں۔ ان کے لیڈروں کو ’’غدار‘‘ کہا جاتا ہے اور ان کی تحریکوں کو دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے، مگر تاریخ کا پہیہ ہمیشہ جبر کے خلاف چلتا ہے۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت نے ہمیں انتخاب کا حق دیا، مگر اختیار نہیں۔ ہمیں رائے دی، مگر اثر نہیں۔ ہمارے ووٹ کے بدلے ہمیں وعدے ملے، روزگار نہیں۔ ہمارے خواب بیچے گئے، امیدیں لوٹی گئیں۔ جب کوئی مزدور اپنی تنخواہ مانگتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ یہ نظام کی مجبوری ہے، مگر جب ایک کارپوریٹ گروپ خسارے میں جاتا ہے تو حکومت اس کے لیے اربوں کا پیکیج لے آتی ہے۔ یہ کیسی مساوات ہے؟
جمہوریت کا حسن اس وقت ہے جب وہ محض انتخابات تک محدود نہ رہے بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، زمین اور وسائل کی تقسیم تک پھیلے۔ اگر فیکٹری میں مزدورکی آواز سنی نہیں جاتی، اگر کسان کو اپنی فصل کا پورا معاوضہ نہیں ملتا، اگر عورت اپنے حق کے لیے خوف زدہ ہے اگر طالب علم کتاب کے بجائے بھوک سے لڑ رہا ہے تو پھر یہ جمہوریت نہیں دکھاوا ہے۔
عوامی جمہوریت کا مطلب ہے کہ اقتدار ان ہاتھوں میں ہو جو روز صبح مزدوری پر جاتے ہیں ان عورتوں کے ہاتھ میں جو گھر اور سماج دونوں سنبھالتی ہیں ان نوجوانوں کے ہاتھ میں جو اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ نظام صرف ووٹ سے نہیں شعور سے بنتا ہے۔ جب عوام یہ سمجھ جائیں کہ ان کی تقدیر ان کے اپنے ہاتھ میں ہے تب ہی سچی جمہوریت جنم لیتی ہے۔
آج جب دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی تمام تر چمک کے باوجود زوال کی طرف بڑھ رہا ہے جب دولت چند افراد کے قبضے میں سمٹ رہی ہے جب جنگیں وسائل کی لالچ میں لڑی جا رہی ہیں، تو اس وقت عوامی جمہوریت کا خواب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ خواب صرف سیاست نہیں ایک انسانی ضرورت ہے۔
شاید ایک دن وہ وقت آئے جب کوئی بچہ بھوک سے نہ مرے جب کوئی مزدور بے روزگار نہ ہو جب عورت اپنی آواز بلند کرے اور کوئی اسے خاموش نہ کرا سکے۔ شاید ایک دن وہ وقت آئے جب ووٹ کا مطلب صرف بیلٹ باکس نہ ہو بلکہ عزت، روزگار اور انصاف ہو۔ تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہاں، اب عوام کی حکومت ہے اور یہی ہے اصل جمہوریت۔یہ خواب شاید آج دور ہے مگر ناممکن نہیں،کیونکہ جب 98 فیصد بیدار ہوں گے تو تاریخ کے تخت و تاج ہل جائیں گے اور زمین پر پہلی بار انسانیت کی حقیقی حکومت قائم ہو گی عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے۔
عوامی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم عام ہو کیونکہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر شعورکی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک ناخواندہ معاشرہ ہمیشہ آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انصاف کا نظام بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، اگر قانون کمزور کے لیے الگ اور طاقتور کے لیے الگ ہو تو پھر ریاست عوامی نہیں رہتی بلکہ چند مفاد پرستوں کا آلہ بن جاتی ہے۔
عوامی جمہوریت دراصل ایک اخلاقی اور سماجی انقلاب کا نام ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب ہر شخص اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ جب استاد علم کو بیداری کا ذریعہ بنائے جب مزدور اپنے حق کے لیے منظم ہو جب عورت اپنے وجود کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھے جب نوجوان خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے عملی قدم اٹھائے۔ تب ہی وہ دن آئے گا جب اقتدار واقعی عوام کے ہاتھوں میں ہوگا اور جمہوریت محض نعرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عوامی جمہوریت عوام کی حکومت کے ہاتھ میں جمہوریت ہے نہیں بلکہ جاتا ہے یہ کیسی عوام کے میں ہو کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔