Express News:
2026-06-03@05:45:01 GMT

عوام کی حکومت، خواب یا حقیقت

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

انسانی تاریخ اقتدارکی ایک طویل داستان ہے۔ کبھی ایک شخص تخت پر بیٹھ کر خود کو خدا کا سایہ کہلاتا تھا، کبھی بادشاہت نے عوام کے خون سے اپنے محل تعمیرکیے۔ کبھی پادریوں نے مذہب کے نام پر حکومت کی تو کبھی جرنیلوں نے بندوق کے زور پر۔ کبھی جاگیرداروں کے دربار لگے تو کبھی سرمایہ داروں کے بورڈ روموں میں فیصلے ہوئے۔ مگر ان سب میں جو ایک خواب ہمیشہ زندہ رہا، وہ تھا عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے۔

تاریخ کے آغاز میں انسان نے جبر کے مقابلے میں انصاف کی تلاش کی۔ قبائلی نظاموں میں مشورہ ہوتا تھا مگر طاقت پھر بھی چند ہاتھوں میں مرتکز رہتی۔ بادشاہت نے ہزاروں سال تک انسان کو رعایا بنا کر رکھا۔ پھر یورپ میں بادشاہت کے خلاف بغاوتیں ہوئیں۔ انقلابِ فرانس نے نعرہ لگایا، مساوات ،آزادی، بھائی چارہ۔ روس کے انقلاب نے مزدور اور کسان کو بتایا کہ تخت الٹ بھی سکتا ہے۔ انقلابات نے زمین ہلا دی مگر سوال باقی رہا، اقتدار آخرکارکس کے ہاتھ میں ہے؟

 آج ہم کہتے ہیں، دنیا میں جمہوریت ہے، مگر یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں ووٹ عوام کا ہوتا ہے اور حکومت سرمایہ داروں کی بنتی ہے، یہ کیسی آزادی ہے، جہاں اخبار چھپتا تو ہے مگر سچ بولنے والے صحافی جیل جاتے ہیں ، یہ کیسی پارلیمان ہے جہاں مزدوروں کے لیے کوئی آواز نہیں مگر ایک سرمایہ دارکی پہنچ ہر وزیر اور مشیر تک ہے اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر یہ عوام کی نہیں سرمایہ کی جمہوریت ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ دنیا نے بہت سی حکومتیں دیکھی ہیں، بادشاہت، آمریت، مذہبی حکومت، فوجی حکومت اور اب سرمایہ دارانہ جمہوریت۔ ہر نظام نے اپنے دعوے کیے، اپنے نعرے لگائے مگر اکثریت کے ہاتھ ہمیشہ خالی رہے۔ وہ اکثریت جو دن رات کام کرتی ہے، جو زمین جوتتی ہے ،جوکارخانے میں پسینہ بہاتی ہے، وہی محروم رہی۔ اقتدار کا جھوٹا تاج ہمیشہ اقلیت کے سر پر سجا رہا۔لیکن ایک تصور ایسا بھی ہے جس نے صدیوں سے انسان کے دل میں امید کی شمع جلائی ہوئی ہے، عوامی جمہوریت یعنی وہ نظام جہاں فیصلے بند دروازوں کے پیچھے نہیں، عوامی اجتماع میں ہوتے ہیں۔ جہاں اقتدار 2 فیصد کے پاس نہیں بلکہ 98 فیصد کے ہاتھ میں ہو۔ جہاں حکومت محلات میں نہیں بلکہ محلوں میں بیٹھ کر عوام کے دکھ سنتی ہو۔

جہاں تعلیم، صحت روزگار اور انصاف کسی کا عطیہ نہیں بلکہ بنیادی حق ہو۔یہی وہ جمہوریت ہے جسے ہم عوام کی جمہوریت یا پیپلز ڈیموکریسی کہتے ہیں۔ یہ وہ خواب ہے جو روس، چین ،کیوبا، ویتنام اور دیگر ممالک میں کبھی کبھی حقیقت کے قریب پہنچا۔ مگر سرمایہ داری کے عالمی جال نے ان تجربات کو بھی کمزورکرنے کی کوشش کی۔ جب عوام اپنے حق کے لیے اٹھتے ہیں تو ان پر پابندیاں لگتی ہیں۔ ان کے لیڈروں کو ’’غدار‘‘ کہا جاتا ہے اور ان کی تحریکوں کو دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے، مگر تاریخ کا پہیہ ہمیشہ جبر کے خلاف چلتا ہے۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت نے ہمیں انتخاب کا حق دیا، مگر اختیار نہیں۔ ہمیں رائے دی، مگر اثر نہیں۔ ہمارے ووٹ کے بدلے ہمیں وعدے ملے، روزگار نہیں۔ ہمارے خواب بیچے گئے، امیدیں لوٹی گئیں۔ جب کوئی مزدور اپنی تنخواہ مانگتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ یہ نظام کی مجبوری ہے، مگر جب ایک کارپوریٹ گروپ خسارے میں جاتا ہے تو حکومت اس کے لیے اربوں کا پیکیج لے آتی ہے۔ یہ کیسی مساوات ہے؟

جمہوریت کا حسن اس وقت ہے جب وہ محض انتخابات تک محدود نہ رہے بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، زمین اور وسائل کی تقسیم تک پھیلے۔ اگر فیکٹری میں مزدورکی آواز سنی نہیں جاتی، اگر کسان کو اپنی فصل کا پورا معاوضہ نہیں ملتا، اگر عورت اپنے حق کے لیے خوف زدہ ہے اگر طالب علم کتاب کے بجائے بھوک سے لڑ رہا ہے تو پھر یہ جمہوریت نہیں دکھاوا ہے۔

عوامی جمہوریت کا مطلب ہے کہ اقتدار ان ہاتھوں میں ہو جو روز صبح مزدوری پر جاتے ہیں ان عورتوں کے ہاتھ میں جو گھر اور سماج دونوں سنبھالتی ہیں ان نوجوانوں کے ہاتھ میں جو اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ نظام صرف ووٹ سے نہیں شعور سے بنتا ہے۔ جب عوام یہ سمجھ جائیں کہ ان کی تقدیر ان کے اپنے ہاتھ میں ہے تب ہی سچی جمہوریت جنم لیتی ہے۔

آج جب دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی تمام تر چمک کے باوجود زوال کی طرف بڑھ رہا ہے جب دولت چند افراد کے قبضے میں سمٹ رہی ہے جب جنگیں وسائل کی لالچ میں لڑی جا رہی ہیں، تو اس وقت عوامی جمہوریت کا خواب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ خواب صرف سیاست نہیں ایک انسانی ضرورت ہے۔

شاید ایک دن وہ وقت آئے جب کوئی بچہ بھوک سے نہ مرے جب کوئی مزدور بے روزگار نہ ہو جب عورت اپنی آواز بلند کرے اور کوئی اسے خاموش نہ کرا سکے۔ شاید ایک دن وہ وقت آئے جب ووٹ کا مطلب صرف بیلٹ باکس نہ ہو بلکہ عزت، روزگار اور انصاف ہو۔ تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہاں، اب عوام کی حکومت ہے اور یہی ہے اصل جمہوریت۔یہ خواب شاید آج دور ہے مگر ناممکن نہیں،کیونکہ جب 98 فیصد بیدار ہوں گے تو تاریخ کے تخت و تاج ہل جائیں گے اور زمین پر پہلی بار انسانیت کی حقیقی حکومت قائم ہو گی عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے۔

عوامی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم عام ہو کیونکہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر شعورکی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک ناخواندہ معاشرہ ہمیشہ آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انصاف کا نظام بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، اگر قانون کمزور کے لیے الگ اور طاقتور کے لیے الگ ہو تو پھر ریاست عوامی نہیں رہتی بلکہ چند مفاد پرستوں کا آلہ بن جاتی ہے۔

عوامی جمہوریت دراصل ایک اخلاقی اور سماجی انقلاب کا نام ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب ہر شخص اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ جب استاد علم کو بیداری کا ذریعہ بنائے جب مزدور اپنے حق کے لیے منظم ہو جب عورت اپنے وجود کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھے جب نوجوان خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے عملی قدم اٹھائے۔ تب ہی وہ دن آئے گا جب اقتدار واقعی عوام کے ہاتھوں میں ہوگا اور جمہوریت محض نعرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عوامی جمہوریت عوام کی حکومت کے ہاتھ میں جمہوریت ہے نہیں بلکہ جاتا ہے یہ کیسی عوام کے میں ہو کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان