کِم کارڈیشیئن کا وکیل بننے کا خواب، خواب ہی رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
امریکی ریئلٹی ٹی وی اسٹار کِم کارڈیشیئن کا وکیل بننے کا خواب، خواب ہی رہ گیا۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلٹ فارم انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ وکالت کا امتحان پاس نہیں کرسکیں۔
کِم کارڈیشیئن کے وکیل بننے کے طویل سفر میں ایک اور رکاوٹ آگئی، انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں ہونے والا کیلیفورنیا بار امتحان میں پاس نہیں کر سکیں، لیکن میں ہار نہیں مانوں گی۔
وکیل بننے کے اپنے 6 سالہ عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اب پہلے سے زیادہ محنت کروں گی، پڑھائی کروں گی اور امتحان دوبارہ دوں گی۔
سوشل میڈیا پر اپنی مخصوص حسِ مزاح اور دیانتداری کے ساتھ کِم نے مداحوں کو آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’خیر، میں ابھی وکیل نہیں بنی، بس ٹی وی پر ایک خوش لباس وکیل کا کردار ادا کرتی ہوں‘۔
انہوں نے مزید لکھا، ’6 سال اس قانونی سفر میں گزر چکے ہیں اور جب تک وکالت کا امتحان پاس نہیں کر لیتی میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ کوئی شارٹ کٹ نہیں، کوئی ہار نہیں، بس مزید عزم کے ساتھ اور زیادہ پڑھائی‘۔
انہوں نے اپنی انسٹااسٹوری کے آخری میں سب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی اور اس سفر میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔
کِم کارڈیشیئن کا کہنا ہے کہ ’ناکامی دراصل ناکامی نہیں بلکہ یہ ایندھن ہے۔ میں پاس ہونے کے بہت قریب تھی مگر اب یہ مجھے مزید محنت کی تحریک دیتا ہے، چلو آگے بڑھتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کِم کارڈیشیئن نے فرسٹ ایئر لا اسٹوڈنٹس امتحان (جسے بےبی بار ایکزیم بھی کہتے ہیں) 3 سال مسلسل ناکامی کے بعد 2021 میں چوتھی کوشش میں پاس کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے وکالت کے اصل امتحان کی تیاری شروع کی۔ یہ امتحان امریکا میں سب سے مشکل سمجھے جانے والے امتحانات میں سے ایک ہے۔ اس میں کامیابی کی شرح 50 فیصد ہے۔
کِم کارڈیشیئن کی وکالت میں دلچسپی اُن کے آنجہانی والد رابرٹ کارڈیشیئن سینئر سے منسلک ہے، جو مشہور او جے سمپسن کے دفاعی وکیلوں میں شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ک م کارڈیشیئن وکیل بننے انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔