آئینی ترمیم کا مقصد مفادات کا تحفظ کرنا ہے ، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت ) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے27ویں آئینی ترمیم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم آئین پاکستان کی بنیادی روح، جمہوری نظام اور عوام کے سیاسی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کی آڑ میں آئین کی دفعہ 248کو چھڑنے، ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرنے اور نیب کے خاتمے کی سازش ہو رہی ہے۔ آئین میں ایسی تبدیلیاں جن سے پارلیمان کی خودمختاری، صوبائی اختیارات، اور عوامی نمائندگی متاثر ہو، انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور گورننس کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں آئین کے متنازعہ حصوں کو چھیڑنا حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”قوم کو درپیش اصل مسائل مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور قانون کی حکمرانی کا فقدان ہیں، مگر حکمران طبقہ ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر ضروری آئینی ترامیم لے کر آ رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم سے متعلق نہ تو عوام کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی دیگر پارلیمانی جماعتوں سے بامقصد مشاورت کی گئی۔ اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عجلت میں آئین کو مقتدر حلقوں کی خواہشات کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ”آئین 1973 قوم کا مشترکہ معاہدہ ہے۔ اسے کسی مخصوص طبقے کے مفاد کے لیے کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔” حکمرانوں مفاد پرستانہ پالیسیوں نے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔