کاش مسلم لیگ نون اسلامی نظام لاتی تو ہم ساتھ دیتے، سراج الحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پشاور میں خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور تحریک انصاف ایک سوچ اور ایک فکر کا تسلسل ہے، تینوں جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں تو ملک پر رائج ظلم کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے کوششیں کرتی ہیں اور جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو نظام کی تبدیلی، اسلامی نظام اور ریاست مدینہ کے قیام جیسے خوش نماء دعووں کے زریعے قوم کو گمراہ کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور تحریک انصاف ایک سوچ اور ایک فکر کا تسلسل ہے، تینوں جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں تو ملک پر رائج ظلم کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے کوششیں کرتی ہیں اور جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو نظام کی تبدیلی، اسلامی نظام اور ریاست مدینہ کے قیام جیسے خوش نماء دعووں کے زریعے قوم کو گمراہ کرتی ہیں۔ تینوں بڑی جماعتوں نے ملک پر 78 سالوں سے رائج عوام کش اور ظالمانہ نظام کو تبدیل کرنے کےلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ملک میں حقیقی تبدیلی کے لئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے جماعت اسلامی پاکستان کے تحت 22 ,21 اور 23 نومبر کو مینار پاکستان لاہور میں ہونے والے کل پاکستان اجتماع عام کی تیاریوں کے سلسلے میں پشاور میں جماعت اسلامی این اے 28 کے تحت منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر سابق رکن قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان، ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ، سابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان اور این اے 28 کے امیر ڈاکٹر عتیق الرحمان نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ اسلام کے نام پر بنے والے 99 فیصد مسلمانوں کے ملک پاکستان میں 78 سال بعد بھی اسلامی نظام کا عملی نفاذ نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ آج ہماری عدالتوں اور ایوانوں میں انصاف کا نظام نہیں ہے، ہمارا سیاست اور تعلیمی ادارے اس آفاقی نظام سے عملا محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے چودہ سو سال قبل انسانوں کے معاشرے کے لئے عملی طور پر رائج کردہ اسلامی نظام کو آج ہم نے مسجد کے منبر سے اس کے دروازے تک محدود کر رکھا ہے اور اسلامی نظام کے دستور اور شاہ کلید قرآن مجید کو مسجد کی الماری میں بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پورا معاشرہ ظلم و جبر، بربریت اور عدم تحفظ کا شکار یے۔
انہوں نے کہا کہ ظلم کے نظام کی جگہ عدل و انصاف پر مبنی عدالتی نظام، سود سے پاک اسلامی معیشت، طبقاتی نظام تعلیم کی جگہ اسلامی نظام تعلیم رائج کیا جائے تو ملک میں ایک صالح فلاحی معاشرے کا قیام عملی طور پر ممکن ہے جس میں ہمارے تمام مسائل اور مشکلات کا حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم، ہربے روزگار کو باعزت روزگار، ہر شہری کو پینے کا صاف پانی اور ہر غریب کی جھونپڑی کو روشنی ملے گی تو عوام کو سکون ملے گا اور یہ سارے کام حکومت اور اختیار کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف کو حکومت کے مواقعے ملے ہیں لیکن ان تینوں پارٹیوں نے عوام کو ریلیف دینے کے بحائے ان کے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ کاش مسلم لیگ اسلامی نظام لاتی تو ہم ساتھ دیتے، کاش پیپلز پارٹی مساوات اور جمہوریت کا نظام قائم کرتی تو ہم ساتھ دیتے اور کاش پاکستان تحریک انصاف تبدیلی اور ریاست مدینہ کے قیام کے وعدوں اور دعوں کو عملی بناتی تو ہم ان کا ساتھ دیتے لیکن بدقسمتی سے یہ تینوں جماعتیں اقتدار ملنے کے بعد ایک دوسرے کا تسلسل ہی ثابت ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی تحریک انصاف کی گزشتہ 13 سالوں سے صوبے میں موجود صوبائی حکومت اور مرکز میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی صورت میں موجود وفاقی حکومت بظاہر ایک دوسرے سے لڑ رہی ہیں لیکن یہ لڑائی عوام کو ریلیف اور حقوق کی فراہمی کے لئے نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کی تعبداری اور جی حضور کی لڑائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 22 ,21 اور 23 نومبر کو ملک بھر سے لاکھوں مردوزن کو مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے جمع کرے گی اور اس تین روزہ اجتماع عام میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ملک میں حقیقی تبدیلی کا روٹ میپ دے گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان انہوں نے کہا کہ میں ہوتی ہیں تو سراج الحق نے اسلامی نظام تحریک انصاف ساتھ دیتے کرتی ہیں نظام کو ملک میں کے لئے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔