27ویں ترمیم پر عوامی مشاورت ہونی چاہیے‘سراج الحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چارسدہ (صباح نیوز) جماعت اسلامی پاکستان کے سابق مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات محدود اور وفاق کے اختیارات بڑھائے جا رہے ہیں یہ اقدامات جمہوریت کے نام پر سول مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش ہیں ، 18ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم پر بھی عوامی مشاورت ہونی چاہیے۔ چارسدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہی کا باعث ہوگی کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں امن جرگہ سسٹم اور مذاکرات سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں پاکستان اور افغانستان کو تصادم کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اور علما کرام جرگہ سسٹم کے ذریعے امن کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور امن جرگہ کا قیام خوش آئند اقدام ہے، تمام جماعتوں کو اس میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا امن و امان کے لحاظ سے سینڈوچ کی مانند بن چکا ہے،وفاق اور صوبہ اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہے، عوام خمیازہ بھگت ر ہے ہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم راتوں رات منظور کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے ملک میں کوئی ایمرجنسی نہیں تھی کہ ترمیم عجلت میں منظور کی جائے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں کو پیکجز دے کر ترمیم منظور کرانا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ ملک میں قانون کی بالادستی اور شفاف انتخابات کے بغیر ترقی ممکن نہیں،جماعت اسلامی آئین و قانون کی حکمرانی اور صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔