یورپ اگر جنگ کرنا چاہتا ہے تو روس بھی تیار ہے، پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یورپ اگر جنگ کرنا چاہتا ہے تو روس بھی تیار ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپین رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ پہلے یورپی لیڈرز یوکرین کے حوالے سے مذاکرات سے الگ تھلگ رہے اور اب وہ یوکرین پر ہونے والے والے ممکنہ معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی صدر نے یہ بات امریکی نمائندہ خصوصی سے ہونے والی ملاقات سے قبل کہی۔
انہوں نے کہا کہ ’میں سیکڑوں دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمارا یورپ کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اگر یورپی رہنما یہی چاہتے ہیں تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں‘۔
روسی صدر نے مزید کہا کہ اگر یورپین حکومتیں سفارتکاری کی جانب واپس لوٹتے ہوئے مذاکرات کا حصہ بنتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ ان کو اس سے زمینی صورتحال کا درست اندازہ ہوسکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔