سال 2026 میں گردشی قرضہ خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ ایک بار پھر بے قابو ہونے کے خدشات کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
موجودہ مالی سال میں اگر اصلاحاتی اقدامات فوری طور پر نافذ نہ کیے گئے تو گردشی قرضے میں 734 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
حکومت نے اس خطرے کو کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز (MEFP) کے تحت طے شدہ اقدامات پر عمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اگر موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تو جون 2026 تک گردشی قرضہ موجودہ 1.
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان کی منظوری دی ہے، جس میں ٹیرف ری بیسنگ، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی، ریکوریز میں بہتری اور ملکیتی پاور پلانٹس و آئی پی پیز کو 400 ارب روپے کے قریب ادائیگیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 120 ارب روپے پرنسپل کی واپسی بھی کی جائے گی تاکہ قرضے کا مجموعی حجم نیوٹرل رہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 کے اختتام پر گردشی قرضہ 1.614 ٹریلین روپے تھا، اور منصوبہ یہ ہے کہ اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے اس کا بہاؤ تقریباً 522 ارب روپے تک محدود رکھا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں: