نیپرا کا4 سال بعد بڑے بجلی کےبریک ڈاؤن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
شاہد سپرا:ملک بھر میں 9 جنوری 2021 کو ہونے والے بڑے بجلی بریک ڈاؤن سے متعلق نیپرا نے4سال بعد فیصلہ سنا دیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق نیپرا نے بریک ڈاؤن کی ذمہ داری نیشنل گرڈ کمپنی پر عائد کرتے ہوئے اس کا جواب مسترد کر دیا ہے۔
نیپرا نے نیشنل گرڈ کمپنی پر اڑھائی کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے 15 روز کے اندر ادائیگی کا حکم دے دیا ہے۔ تحریری فیصلہ میں واضح کیا گیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
باغبان پورہ کی خواتین نے بلاول سے سیاست چھڑوا دی، اسکے بعد کیا باتیں ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ
یاد رہے کہ 9 جنوری 2021 کے اس بڑے بریک ڈاؤن کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں 20 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی تھی۔ واقعہ کے بعد نیپرا نے نیشنل گرڈ کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس کے جواب کو اب مسترد کر دیا گیا ہے۔
نیپرا کے مطابق کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات ناکافی تھیں اور بریک ڈاؤن انتظامی غفلت کا نتیجہ تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔