کراچی میں جب شہر دہشت اور خوف میں ڈوبا ہوا تھا، اس خوف کا مقابلہ کرنے والا واحد نام چوہدری اسلم کا تھا، ۔ وہ شہر کے نڈر سپاہی تھے اور دہشت کے سامنے کھڑے ہونے والے آخری شخص، جنہیں ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:فلم ’دھُرندھر‘ کے متنازع ڈائیلاگ پر چوہدری اسلم کی اہلیہ کا سخت ردعمل

چوہدری اسلم وہ شخص تھے جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس ہاتھ میں پسٹل لیے، سینہ تان کر دہشتگردوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ 1964 میں مانسہرہ کے علاقے ڈھڈیال میں پیدا ہوئے اور 1984 میں سندھ ریزرو پولیس کے ایگل اسکواڈ میں بطور اے ایس آئی شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ کراچی پولیس کا حصہ بنے اور 80 کی دہائی میں جونیئر افسر سے ترقی کرتے ہوئے ایس ایس پی کے عہدے تک پہنچ گئے۔

90 کی دہائی میں جب کراچی خوف اور بے امنی کی لپیٹ میں تھا، چوہدری اسلم گلبہار تھانے کے ایس ایچ او مقرر ہوئے اور آپریشن کلین اپ کے دوران اپنی گرفتاریوں، چھاپوں اور دبنگ انداز کے باعث شہر بھر میں مشہور ہوئے۔

چوہدری اسلم پر متعدد جان لیوا حملے کیے گئے۔ 2011 میں ان کے گھر پر خودکش حملہ ہوا، مگر وہ بچ گئے، البتہ چھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ اس حملے کو انہوں نے دہشتگردوں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایک بدنام زمانہ ڈاکو نے کیسے چوہدری اسلم سمیت دیگر پولیس افسران کو جیل بھیجا؟

وہ 9 جنوری 2014 کو کراچی میں ایک خودکش دھماکے میں وہ شہید ہو گئے۔ بعدازاں فوجی عدالتوں نے ان کے قتل میں ملوث ملزمان کو سزائے موت سنائی۔

چوہدری اسلم کی پہچان صرف بہادری نہیں بلکہ ہائی پروفائل کیسز کی بے خوف تفتیش بھی تھی، چاہے صولت مرزا کا معاملہ ہو، شعیب خان، رحمان ڈکیت، یا طالبان کے خطرناک نیٹ ورکس۔ ہر بڑے محاذ پر چوہدری اسلم کا نام ہی گونجتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چوہدری اسلم کراچی کراچی پولیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چوہدری اسلم کراچی کراچی پولیس چوہدری اسلم

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا