پی ٹی آئی سینیٹر خرم ذیشان کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ، فائرنگ سے ایک شخص زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پشاور کے علاقے حیات آباد میں منگل کی صبح نامعلوم افراد نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر خرم ذیشان کے سسرالی گھر پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں گھر کا ایک ملازم زخمی ہوگیا۔
خرم ذیشان نے گزشتہ اکتوبر میں خیبر پختونخوا سے جنرل سیٹ پر سینیٹر کا انتخاب جیتا تھا، یہ سیٹ شبلی فراز کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔
تحریک انصاف کے سینیٹر خرم ذیشان کے گھر پر گزشتہ رات فائرنگ کے بعد کے مناظر pic.
— Muhammad Umair (@MohUmair87) December 9, 2025
تتارہ تھانے میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ قریباً صبح ساڑھے 3 بجے پیش آیا، جب حملہ آوروں نے حیات آباد فیز ٹو میں موجود گھر کو نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق سینیٹر کے برادر نسبتی سید اظہر حسین بخاری نے بیان دیا کہ وہ اس وقت گھر پر موجود تھے جب فائرنگ ہوئی۔ ان کے مطابق گھر میں کام کرنے والے ابرار احمد کو گولی لگی جس سے وہ زخمی ہوگیا۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان اکرام کھٹانہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ حملے کے وقت خرم ذیشان گھر پر موجود نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور پہلے گھر والوں کو دروازہ کھولنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے اور ناکامی پر فائرنگ شروع کر دی۔
سینیٹر خرم ذیشان نے تاحال اس حوالے سے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی پی ٹی آئی کے ایم پی اے انور زیب خان کے گھر پر خارشگان تحصیل میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ ہوا تھا، جس میں ان کا ایک پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی سینیٹر خرم ذیشان زخمی فائرنگ نامعلوم افراد وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سینیٹر فائرنگ نامعلوم افراد وی نیوز سینیٹر خرم ذیشان گھر پر
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔