حکومت کا یہ عزم ایک تازہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نظام کو "انتہائی بدنظمی اور ناقص انتظام" کا شکار قرار دیا گیا ہے۔  اسلام ٹائمز۔ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں پناہ گزینوں کو ہوٹلوں میں رکھنے کے سلسلے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کا یہ عزم ایک تازہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نظام کو "انتہائی بدنظمی اور ناقص انتظام" کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ جسے صحافی ڈایان ٹیلر نے اجاگر کیا، اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے ہوٹلوں کے استعمال نے نہ صرف بھاری مالی بوجھ پیدا کیا بلکہ مقامی برادریوں اور پناہ گزینوں دونوں کے لیے مشکلات اور مسائل کو جنم دیا۔ رپورٹ میں محکمہ داخلہ (Home Office) کے طریقہ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو مستقل رہائش فراہم کرنے کے لیے متبادل منصوبوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ ہوٹلوں پر انحصار ختم کیا جا سکے تاہم، یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوامی اعتماد میں کمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

اسی تناظر میں وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت "مایوسی اور بداعتمادی کا بڑھتا ہوا احساس" پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "برطانوی عوام اس بات پر گہرے شکوک میں مبتلا ہیں کہ آیا کوئی حکومت واقعی اس ملک کو درست سمت میں لے جا سکتی ہے یا نہیں۔" ویس اسٹریٹنگ نے قومی صحت کے نظام (NHS) میں موجود ثقافتی اور انتظامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ذمہ داری سے فرار، مریضوں کی بات نہ سننا اور غلطیوں پر پردہ ڈالنا" جیسے رویے عوامی اعتماد کو کمزور کر رہے ہیں۔ 

سیاسی تجزیہ کاروں نے ان کے اس بیان کو سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی 1979ء کی مشہور تقریر، جسے ’’مالیز اسپیچ‘‘ کہا جاتا ہے، سے تشبیہ دی ہے جس میں انہوں نے امریکہ کو "اعتماد کے بحران" میں مبتلا قرار دیا تھا۔ دوسری جانب ویسٹ منسٹر میں آج کئی حکومتی بحران زیر بحث ہیں پناہ گزینوں کے ہوٹلوں کے معاملے سے لے کر قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے تنازع تک، جو سبھی عوامی نظام کی ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پناہ گزینوں کے لیے

پڑھیں:

سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد

لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش