ممکنہ حکومت تبدیلی سے قبل وزیراعظم آزاد کشمیر کا بڑا فیصلہ، اساتذہ کیلیے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد:۔ ممکنہ حکومت تبدیلی سے قبل وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے تعلیمی شعبے کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کر لیا، جس سے ہزاروں اساتذہ کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
وزیراعظم کے احکامات پر ایلیمنٹری اور جونیئر کمپیوٹر ٹیچرز کے گریڈز اپ گریڈ کر دیے گئے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر کارروائی کرتے ہوئے 15 ہزار 43 اسامیوں کو گریڈ 11 سے گریڈ 14 میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
محکمہ مالیات آزاد کشمیر نے اس فیصلے کے لیے 82 کروڑ 58 لاکھ روپے کے اخراجات کی منظوری بھی دے دی ہے، جب کہ کابینہ نے بھی اپ گریڈیشن کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (S&GAD) نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، ایلیمنٹری اور ہائر ایجوکیشن محکموں کو فیصلے پر فوری عمل درآمد کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ عمل درآمد کی رپورٹ کابینہ سیکرٹریٹ کو ارسال کی جائے گی۔ اساتذہ برادری نے وزیراعظم کے اس اقدام کو تعلیم کے فروغ کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔