وزیراعلیٰ کے پی نے بلٹ پروف گاڑیاں وفاق کو واپس نہیں بھجوائیں، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق سے پرانی بلٹ پروف گاڑیاں نہ لینے کا اعلان زور و شور سے کیا مگر اب تک گاڑیاں واپس اسلام آباد نہیں بھجوائیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں بلٹ پروف گاڑیاں اب بھی خیبر پختونخوا پولیس کے پاس موجود ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کے ہائی رسک علاقوں میں تعینات پولیس افسران کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے یہ گاڑیاں فراہم کی تھیں۔
خیبر پختون خوا حکومت کے پولیس کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی 3 بلٹ پروف گاڑیاں نہ لینے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اپنا مؤقف دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے انہیں پرانی اور ناقص قرار دے کر واپس بھیجنے کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ ایسی گاڑیوں کو رکھنا صوبے اور پولیس کی توہین ہوگی۔
وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اگر کے پی کو یہ گاڑیاں نہیں چاہئیں تو انہیں بلوچستان بھیج دیں گے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس نے اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر خریداری کا عمل شروع کیا ہے۔
ہیوی مکینیکل انڈسٹریز کو آرڈر کی گئی چھیالیس میں سے 13 گاڑیاں موصول ہوچکی ہیں، پچیس میں سے 5 اے پی سیز بھی صوبے کو مل چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلٹ پروف گاڑیاں
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔