اگر ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز نے ایلون مسک کے لیے مجوزہ ایک ٹریلین ڈالر کے پے پیکیج کو منظور نہ کیا تو وہ ٹیسلا کی سی ای او شپ چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ انتباہ کمپنی کی چیئرپرسن رابن ڈین ہولم نے پیر کے روز شیئر ہولڈرز کو لکھے گئے خط میں دیا۔

ڈین ہولم نے کہا کہ یہ پرفارمنس پر مبنی پیکیج ایلون مسک کو کم از کم ساڑھے سات سال تک ٹیسلا کی قیادت جاری رکھنے کے لیے متحرک رکھنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مسک کی قیادت ٹیسلا کی کامیابی کے لیے نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے، اور اگر انہیں مناسب طور پر ترغیب نہ دی گئی تو کمپنی ان کی "وقت، صلاحیت اور وژن" سے محروم ہوسکتی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ مسک کا کردار اس وقت زیادہ اہم ہے جب ٹیسلا مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار ٹیکنالوجی (Autonomous Technology) کے میدان میں عالمی قیادت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مجوزہ پیکیج کے تحت مسک کو 12 حصوں پر مشتمل اسٹاک آپشنز دیے جائیں گے جو مختلف اہداف سے منسلک ہیں، جن میں 8.

5 ٹریلین ڈالر مارکیٹ ویلیو اور خودکار گاڑیوں و روبوٹکس میں پیش رفت شامل ہے۔

ڈین ہولم نے شیئر ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اس پیکیج کو منظور کریں اور ان تین ڈائریکٹرز کو بھی دوبارہ منتخب کریں جو طویل عرصے سے مسک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈیلاویئر کی عدالت نے 2018 میں دیے گئے مسک کے پے پیکیج کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بارے میں عدالت نے کہا تھا کہ وہ غیر آزاد ڈائریکٹرز کے ذریعے غلط طریقے سے طے کیا گیا تھا۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ