امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈ کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا نے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے بیڑے کی جدید کاری کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کے بڑے اپ گریڈ پیکیج کی منظوری دے دی ہے، اس فیصلے کا اعلان امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) نے کیا، جس کے مطابق یہ اقدام نہ صرف امریکا کی خارجہ پالیسی کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے بلکہ واشنگٹن کی قومی سلامتی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈی ایس سی اے کا کہنا ہے کہ یہ جدید کاری پاکستان کو جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور آئندہ ممکنہ آپریشنز میں امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ مؤثر انٹرآپریبلٹی برقرار رکھنے میں مدد دے گی، اپ گریڈ پیکیج میں لنک-16 کمیونی کیشن سسٹمز، جدید کرپٹوگرافک آلات، ایویونکس اپ ڈیٹس، تربیت، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہے، جس سے پی اے ایف کے آپریشنل معیار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
امریکی کانگریس کو بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا کہ یہ اپ گریڈ پاکستان کے بلاک-52 اور مڈ لائف اپ گریڈ (MLU) ایف-16 بیڑے کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنائے گا۔ اس سے نہ صرف موجودہ دفاعی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ جدید کاری پاک فضائیہ اور امریکی فضائیہ کے درمیان جنگی مشقوں، مشترکہ آپریشنز اور تربیت کے شعبوں میں بہتر ہم آہنگی پیدا کرے گی، جبکہ طیاروں کی سروس لائف بھی 2040 تک بڑھ جائے گی۔ اپ گریڈ کا مقصد انتباہی نظام، نیویگیشن اور کمیونی کیشن صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ طیارے زیادہ محفوظ، مؤثر اور تکنیکی طور پر مستحکم بن سکیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکی صدر اور پاکستان کی عسکری و سول قیادت کے درمیان ملاقاتیں مثبت ماحول میں ہوئیں، جنہیں باہمی روابط کے نئے مرحلے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپ گریڈ
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔