پنجاب حکومت کی گارمنٹس سٹی کی بلڈنگزلیزپردینےکی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے گارمنٹس سٹی کی بلڈنگز کو لیز پر دینے کی منظوری دے دی ہے۔ قائداعظم بزنس پارک میں موجود جدید سٹچنگ یونٹس سرمایہ کاروں کو لیز پر دی جائیں گی۔ گارمنٹس سٹی منصوبے پر مجموعی طور پر 4 ارب 18 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
حکومت نے لیز کی مدت 30 سال مقرر کی ہے اور توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ کرایہ 21 روپے فی مربع فٹ ماہانہ ہوگا، اور لیز کی بولی کے ذریعے مقابلہ کیا جائے گا۔ پاک-چین مشترکہ منصوبوں کے لیے کرایہ میں 50 فیصد رعایت بھی دی گئی ہے۔ کرایہ میں ہر سال 10 فیصد اضافہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
لیسکو کی جانب سے سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت مقرر
بلڈنگز صرف گارمنٹس ایکسپورٹ کمپنیوں کو دی جائیں گی، اور لیز لینے والی کمپنیاں 12 ماہ کے اندر کمرشل پیداوار شروع کرنے کی پابند ہوں گی۔ محکمہ خزانہ نے لیز معاہدے میں عدم تعمیل پر جرمانے کی شق شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔
لیز لینے والی کمپنیوں کے لیے کم از کم 2 ملین ڈالر سالانہ برآمدات کی شرط رکھی گئی ہے، اور تیسرے سال سے 3.
امتحانات سے قبل ہی لاہور بورڈ کی نااہلی سامنے آگئی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔